فحش فلمیں نوعمر افراد پر کیا اثرات مرتب کررہی ہیں؟

لندن (قدرت روزنامہ16-فروری-2017) فحش فلمیں نوعمر افراد پر کیا اثرات مرتب کررہی ہیں؟ تحقیق کاروں نے اس سوال کا مختصر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ فلمیں کمسن افراد کو جنسی درندے بنارہی ہیں.“ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران نوعمر افراد کی جانب سے کئے جانے والے جنسی حملوں میں دو گنا اضافہ ہوچکا ہے، اور اس کی بنیادی وجہ پرتشدد فحش فلمیں ہیں، جن کی نوعمر افراد کے موبائل فونز پر بھرمار ہو چکی.

یہ مسئلہ کس قدر شدت اختیار کر چکا ہے اس کا اندازہ گزشتہ ہفتے سنڈرلینڈ کی ایک مجسٹریٹ عدالت میں پیش کئے جانے والے کمسن مجرم کے اعتراف جرم سے کیا جا سکتا ہے. اس 11 سالہ لڑکے نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ سات بار عصمت دری کے جرم کا مرتکب ہو چکا تھا.گزشتہ سال نومبر میں ایک 12 سالہ لڑکے کو اپنی چھوٹی بہن کی عصمت دری کا مجرم قرار دیاگیا. اس لڑکے نے بھی عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنی بہن کو چھ بار زیادتی کا نشانہ بنایا. تفتیش کاروں نے جب اس کی انٹرنیٹ ہسٹری کی معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ وہ فحش فلمیں دیکھنے کے بعد اپنی بہن پر جنسی حملہ کرتا تھا. اسی طرح 2014ءمیں ایک نوعمر لڑکے نے فحش فلموں سے متاثر ہوکر شروبیری کے علاقے میں ایک 10 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا. برطانوی وزارت انصاف کے اعدادوشمار کے مطابق 2015ءکے دوران 120بچوں کو عصمت دری کے جرم میں سزا دی گئی. یہ تعداد 2011ءکے مقابلے میں 74 فیصد زیادہ تھی. وزیر انصاف فلپ لی نے ان اعدادوشمار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ”انٹرنیٹ کے زمانے میں ہم پرتشدد فحش مواد کی بھرمار دیکھ رہے ہیں. یہ مناظر کمسن افراد کے ذہنوں کو پراگندہ کررہے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے.“ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ 11 سے 16 سال عمر کے 53 فیصد لڑکے یہ سمجھتے ہیں کہ فحش فلموں میں دکھائے جانے والے پرتشدد جنسی مناظر حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں. رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی وجہ سے فحش مواد کی دستیابی اس قدر عام ہوچکی ہے کہ 14 سال کی عمر کو پہنچنے تک تقریباً 94 فیصد بچے اسے دیکھ چکے ہوتے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top