یہ بات تو صدیوں سے عام ہے کہ ہمت ور اور دلیر مردوں کو پسندکیا جاتا ہے لیکن

اسلام آباد (قدرت روزنامہ16فروری2017)یہ بات تو صدیوں سے عام ہے کہ ہمت ور اور دلیر مردوں کو پسندکیا جاتا ہے لیکن سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کردیا ہے کہ جو مرد رسوم و رواج اور قوانین کو خاطر میں نہیں لاتے اور بظاہر وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں انہیں بھی خواتین بے حد پسند کرتی ہیں.  میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے سائنسدانوں نے کی جو یہ جاننا چاہتے تھے کہ عشق میں مبتلا لوگوں کے رویے پر اس کیفیت کا کیا اثر مرتب ہوتا ہے.

اس تحقیق کے لئے سائنسدانوں نے یونیورسٹی کے کچھ سٹوڈنٹس کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک گروپ کو آکسیٹوسن ہارمون سنگھایا جبکہ دوسرے گروپ کو ایک فرضی دوا سنگھائی گئی. ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسیٹو سن وہ ہارمون ہے جو محبت کی کیفیت طاری ہونے، اور قربت کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے انسان جوش و ولولے جیسی کیفیات محسوس کرتا ہے، یعنی جس گروپ کو آکسیٹو سن سنگھایا گیا تھا ان کی کیفیت ایسے ہی تھی گویا وہ عشق میں مبتلا ہوں. جب ان دونوں گروپوں کو ایک کمپیوٹر گیم کھیلنے کو دی گئی جس میں کچھ گیندوں کو ایک نیلی یا پیلی ٹوکری میں ڈالنا تھا. نیلی ٹوکری میں گیند ڈالنے والے کو 5پوائنٹ جبکہ پیلی ٹوکری میں گیند ڈالنے پر 10 پوائنٹ ملنا تھے، مگر پیلی ٹوکری میں گیند ڈالنا قوانین کی خلاف ورزی تھا.

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جب نتائج جمع کئے گئے تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے آکسیٹو سن ہارمون سونگھا تھا وہ کھیل کے قانون کی خلاف ورزی کرنے میں کہیں آگے رہے اور انہوں نے زیادہ تر گیندیں پیلی ٹوکریوں میں ہی ڈالیں جبکہ دوسرے گروپ میں شامل افراد بڑی حد تک بتائے گئے قانون کے مطابق کھیلتے رہے. آکسیٹو سن والے گروپ میں قانون توڑنے کی شرح 33 فیصد تھی جبکہ اس کے برعکس یہ شرح صرف 22 فیصد تھی. سائنسی جریدے سوشل کاگنیٹو اینڈ افیکٹو نیوروسائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ہم یہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ محبت میں گرفتار لوگ خطرات سے کھیلنے اور رسوم و رواج توڑنے کا زیادہ رجحان کیوں رکھتے ہیں. ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ان میں آکسیٹو سن ہارمون کا زیادہ اخراج ہے، جو انہیں پرجوش اور مسرور کردیتا ہے اور یہ کچھ بھی کرگزرنے پر تیار ہوجاتے ہیں، اور یہی بات صنف مخالف کو متاثر کر جاتی ہے :-

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top