زندہ گائے کے پیٹ میں اوزار مارکر اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکال کر اسے کھولتے پانی میں ابال کر اس کا چمڑا نکالا جاتا ہے

45

(قدرت روزنامہ15-فروری-2017)زندہ گائے کے پیٹ میں اوزار مارکر اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکال کر اسے کھولتے پانی میں ابال کر اس کا چمڑا نکالا جاتا ہے جسے کف لیدر کہا جاتا ہے جو بھاری قیمت میں امریکہ بھیجا جاتا ہے اس کاروبار میں پورے ہندوستان میں ایک بھی مسلمان شریک نہیں ہے لیکن اس چمڑے سے وابستہ تقریبا 20لاکھ لوگ ہیں جن کی روزی روٹی کا واحد زریعہ یہ پیشہ ہے اور اسی کاروبار سے ان ہندوؤں کو 20 لاکھ ڈالر کی سالانہ انکم حاصل ہوتی ہے .گندہ ہے پر دھندا ہے یہ .

گائے ماتا کے پجاری کیا ایسا نہیں کرسکتے .؟؟ارے بھائی کیوں نہیں لکشمی (دولت ) کی پوجا بھی تو کوئی پوجا ہے جس سے پیٹ پوجا ہوتی ہے اور جہاں پیٹ پوجا کا سوال ہو وہاں بہت ساری پوجائیں پتلی گلی سے نکل لیتی ہیں .اتنا ہی نہیں گائے ماتا کے پجاری حضرات کی ناک کے نیچے سے گائے کی چربی سے لذت دار اور سواد بھرے بناسپتی گھی بنائے جاتے ہیں .گائے کی کھلے عام ہتیا کرکے صابن اور گھی بنانے کے کارخانے کسی مسلمانوں نے نہیں بنائے بلکہ ہندوؤں کے سب سے اعلی طبقہ برہمن کے قائم کئے ہوئے ہیں .اس لئے عید قربان کی آمد کے پیش نظر گائے کی ہتیا اور قتل خانے( مذبح یا سلاٹر ہاؤس ) کی مخالفت میں جو احتجاج پورے ہندوستان کے کونے کونے میں ہندو مذہبی تنظیموں کی طرف سے کیا جاتا ہے وہ صرف سیاسی ڈرامے بازیاں ہیں اس سے زیادہ ان کے اندر کوئی مذہبی جذبہ یا عقیدے کے تقدس کا عنصر شامل نہیں .اصل میں گائے کو ماتا کہنا ہی اصل پاکھنڈ (گناہ ) ہے برہمن طبقہ شروع سے ہی بھکشک رہا ہے برہمن گائے ہی نہیں انسان سے لے کر سبھی جانوروں کی بلی چڑھا کر ان کا مانس کھاتے رہے ہیں اس لئے نیپال کے برہمن آج بھی بڑی شان کے ساتھ گائے کی بلی چڑھاتے ہیں .کٹھمانڈو (نیپال کی راجدھانی) میں واقع کالی ماتا مندر میں پہلے تو گائے کی پوجا ہوتی ہے پھر اسکے بعد گائے کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے جاتے ہیں اور جیسے ہی گائے سر ہلاتی ہے تیز دھار والی چھری سے گائے کی گردن پر مندر کا بروھت اس طرح وار کرتا ہے کہ خون کا فوارہ کالی ماتا کے چرنوں میں جا گرتا ہے .تڑپتی گائے کا خون کئی ایک مورتیوں کو چڑھایا جاتا ہے گائے کی گردن کو پجاری پجاری خود لے کر جاتا ہے اور چمڑا اتارکر گائے کا گوشت دیوی کے بھگتوں کو پرساد کے طور پر دیا جاتا ہے جسے وہ اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں اور ملنے جلنے والوں کو عقیدت کے ساتھ تحفے کے طور پر پیش کرتے ہیں .برہمن ہی نہیں غیر برہمن غیر مسلم بھی گائے کا گوشت بڑے ذوق و شوق سے کھاتے ہیں .اس لئے جو بات اب تک ہمیں سمجھ لگی ہے کہ ہندو قوم کو اب گائے کو اپنی ماتا کہنا چھوڑدینا چاہئے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top