ترک افواج کو کرد باغیوں سے لے کر داعش کے شدت پسندوں تک کئی قسم کے خطرات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے

21

انقرہ (قدرت روزنامہ14-فروری-2017) ترک افواج کو کرد باغیوں سے لے کر داعش کے شدت پسندوں تک کئی قسم کے خطرات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، لیکن گزشتہ روز کرد علاقے میں آپریشن کے دوران پہلی بار انہیں خواتین جنگجوﺅں کے خوفناک حملے کا سامنا کرنا پڑ گیا.ویب سائٹ Aranews.netکی رپورٹ کے مطابق ان خواتین کا تعلق کردپیشمرگہ کے ویمن پروٹیکشن یونٹ سے تھا، اور ترک فوجیوں کے ساتھ ان کی جھڑپ شام کے شمال مغربی حساکہ صوبے کے علا قے امودے میں ہوئی.

رپورٹ کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ترک افواج کرد علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں ، جہاں ترکی اپنی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے. کرد ملیشیا YPG کے ایک افسر نے بتایا کہ ترک فوجی امودے قصبہ سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع سرحدی گاﺅںخارزا میں داخل ہو رہے تھے کہ جب خواتین کرد جنگجوﺅں نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی. اس جھڑپ میں دو کرد خواتین جنگجو زخمی ہو گئیں تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ترک افواج کا کتنا نقصان ہوا. کردYPG ملیشیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جھڑپ کے بعد ترک فوجی علاقہ چھوڑ کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top