نوعمر بچوں کی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہراسیت وہ مسئلہ ہے جو کم و بیش ہر جگہ پایا جاتا ہے

n4

میلبورن (قدرت روزنامہ14فروری2017) نوعمر بچوں کی اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہراسیت وہ مسئلہ ہے جو کم و بیش ہر جگہ پایا جاتا ہے، اور بدقسمتی سے اس کی سنگینی کے متعلق آگاہی بہت کم پائی جاتی ہے. اس مسئلے کو نظر انداز کرنے والے اساتذہ و دیگر ذمہ داران کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ اس ظلم کے شکار بچوں پر گیا گزرتی ہے.

آسٹریلوی طالبہ کیسیڈی ٹریون کی المناک داستان، جو اس نے اپنی موت سے عین پہلے ایک خط کی صورت میں ساری دنیا کو سنا دی، سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 14 سالہ کیسیڈی ٹریون میلبورن شہر کے ایک سکول کی طالبہ تھی. اسے طویل عرصے تک اس کی ساتھی طالبات نے بدترین طور پر ہراساں کیا، یہاں تک کہ بالآخر اپنے ساتھی لڑکوں سے اس کی اجتماعی آبرو ریزی کروا ڈالی.
 کیسیڈی کا خط ان کی والدہ کی اجازت سے 9news نے شائع کیا، جس میں اس نے لکھا ”میرا نام کیسیڈی ٹریون ہے اور مجھے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا. میں جس سکول کی طالبہ تھی اسی سکول کے دو لڑکوں نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا. شاید یہ خط توجہ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوگی لیکن دراصل یہ اس کے بالکل برعکس ہے. میں دوسروں کو اور خصوصاً والدین کو خبردارکرنا چاہتی ہوں کہ اگر یہ میرے ساتھ ہوسکتا ہے تو یہ کسی اور کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے. میں یہ اس لئے کررہی ہوں کہ اس سکول میں 7 سے 12 سال کے 1500سے زائد طالبعلم زیر تعلیم ہیں. میں آپ کو اس لئے خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ سکول کے سٹاف نے مجھے بچانے کے لئے کچھ نہیں کیا. میں آپ کو حقیقت بتانا چاہتی ہوں نہ کہ وہ جو آپ نے پہلے سنا ہوگا.
میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس واقعے کو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود اب بھی میرا مذاق اڑایا جاتا ہے . مجھ سے اب بھی فیس بک پر ایسے لوگ رابطہ کرتے ہیں جو مجھے بدچلن کہتے ہیں. میں نے سکول بھی بدل لیا اور حتیٰ کہ گھر بھی بدل لیا لیکن مجھے اب بھی ہراساں کیا جارہا ہے. میں جھوٹ بولنے والوں کا منہ تو بند نہیں کرسکتی لیکن کم از کم سچ تو بتاسکتی ہوں. اگر آ پ کو کبھی بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے خلاف لڑیں. اگر آپ لڑیں گے نہیں تو ہمیشہ پچھتائیں گے، جس طرح میں پچھتارہی ہوں. خبردار رہیں اور خود کو محفوظ رکھیں. میرا خیال ہے کہ آپ کے پاس طاقت ہوتی ہے کہ آپ لڑ سکیں. یاد رکھیں کہ میرے ساتھ جن لوگوں نے یہ سب کیا وہ سکول کے طالبعلم تھے. میں یہ ان لڑکوں سے بدلہ لینے کے لئے نہیں کررہی جنہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی، یا وہ جنہوں نے انہیں اس کام کے لئے اکسایا یا جو میرا مذاق اڑاتے رہے. میں یہ اپنی جیسی لڑکیوں کو خبردار کرنے کے لئے کر رہی ہوں، اور انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ اپنی طرف بڑھتے پہلے قدم کو ہی روکیں ورنہ یہ مسئلہ بڑھتا جائے گا. کبھی بھی خاموش نہ رہیں کیونکہ آپ کی خاموشی حملہ کرنے والوں کو اور بے باک کر دیتی ہے.“
کیسیڈی کی والدہ لنڈا نے بھی 9newsکو بتایا کہ سکول میں لڑکیوں کا ایک گروپ ان کی بیٹی کو مسلسل ہراساں کررہا تھا. بیچاری طالبہ ان بدبخت لڑکیوں کے گروپ سے اس قدر تنگ آئی کہ سکول جانا ہی چھوڑ دیا. کچھ ماہ کے بعد اس نے دوبارہ سکول جانا شروع کیا تو اسے تنگ کرنے والی لڑکیوں نے معافی مانگنے کا ڈرامہ کیا اور اسے اپنے ساتھ ایک تقریب میں جانے کی دعوت دی. وہ اسے دھوکے سے ایک گھر میں لے گئیں جہاں دو لڑکے پہلے ہی موجود تھے. ان لڑکوں نے کیسیڈی کی آبروریزی کی جبکہ اس موقع پر اسے ہراساں کرنے والی لڑکیاں اس کی تذلیل کرتی رہیں اور مذاق اڑاتی رہیں. وہ اس ظلم کے بعد بھی اسکی تضحیک سے باز نہ آئیں، جس پر دلبرداشتہ ہوکر بالآخر اس نے اپنی زندگی کا ہی خاتمہ کرلیا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top