مصر کے صوبہ سیناء میں وہ چشمے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آج تک موجود ہیں

قاہرہ (قدرت روزنامہ14فروری 2017)مصر کے صوبہ سیناء میں وہ چشمے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے آج تک موجود ہیں جنھیں اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تا کہ ان کی قوم ان سے پانی پی سکے. اس علاقے کا نام “عيون موسى” ہے.

موسی علیہ السلام کی قوم سفر کر کے “بئرِ مر” کے علاقے میں آئی اور پھر وہاں سے “ایلیم” تک پہنچی. یہاں پر 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے، اس لیے ان لوگوں نے یہاں پانی کے پاس ہی پڑاؤ ڈالا.العربیہ کے مطابق ماہر آثاریات ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان کاکہ بئرِ مر اس وقت عیون موسی کے علاقے سے 11 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے. جہاں تک ايليم کے علاقے کا تعلق ہے تو وہ موجودہ عیون موسی کے علاقے میں ہی واقع ہے. ڈاکٹر عبدالرحیم کے مطابق ان چشموں کی تعداد بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے برابر تھی. ہر قبیلہ اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کی نسل سے تعلق رکھتا تھا. یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے اور ان کی تعداد 12 ہی تھی.عالمی ماہر فلپ مائرسن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نہر سوئز سے لے کر عیون موسی تک کا علاقہ انتہائی بنجر اور خشک ہے. اس سے تصدیق ہو جاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی قوم یہاں سے گزرتے ہوئے شدید پیاس کا شکار ہو چکی تھی جس کے بعد یہ چشمے ان کے لیے ہی پھوٹے تھے. اس علاقے میں اب 4 چشمے واضح طور پر موجود ہیں. ان میں دو میں پانی ہے. ان میں ہر چشمے کا قطر 4 میٹر ہے. بقیہ چشمے مٹی کے ڈھیروں کے نتیجے میں گُم ہو گئے ہیں. ان کی دریافت کے لیے ارضیاتی سروے کی ضرورت ہے تا کہ مٹی کے نیچے چٹان کی سطح تک پہنچا جا سکے جہاں بقیہ چشمے پائے جاتے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top