اسرائیل کے جنوب میں واقع ایک مقبوضہ گاﺅں کے فلسطینی باسیوں نے جس طرح غاصب اسرائیل کے خلاف اپنے حق کی جنگ لڑی ہے اس کی شائد تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہ مل سکے

 

اسلام آباد (قدرت روزنامہ14فروری2017)نہتے فلسطینیوں کی اسرائیلی جبر کے خلاف جنگ کا یوں تو ہر باب ہی عزم و ہمت کی داستان ہے لیکن اسرائیل کے جنوب میں واقع ایک مقبوضہ گاﺅں کے فلسطینی باسیوں نے جس طرح غاصب اسرائیل کے خلاف اپنے حق کی جنگ لڑی ہے اس کی شائد تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہ مل سکے. الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے گاﺅں عراقب کو اسرائیلی فوج گزشتہ چھ سال کے دوران 100 دفعہ مسمار کر چکی ہے لیکن ان باہمت فلسطینیوں کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکی.

صحرائے ناقب میں بسنے والے فلسطینیوں کو اسرائیل نے 1953 میں بے دخل کر کے ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا. عراقب گاﺅں کے باسی 1990 کی دہائی میں اپنی سرزمین پر پھر سے لوٹ آئے اور اپنے گاﺅں کو دوبارہ آباد کر لیا.جولائی 2010 میں اسرائیلی فوج بلڈوزروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ آئی اور پورے گاﺅں کو تباہ و برباد کر دیا. گاﺅں والوں نے اس اندوہناک تباہی پر ہمت نہیں ہاری اور کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ اپنے مکانات کھڑے کر لیے. اسرائیلی فوج ایک بار پھر لوٹی اور ان کے گھروں کو تباہ کر دیا. کچھ عرصے میں گاﺅں والوں نے دوبارہ اپنی رہائش گاہوں کو جزوی طور پر تعمیر کر لیا لیکن اب اسرائیلی فوج نے پے در پے ان پر حملہ شروع کر دیا اور بار بار ان کے گھر مسمار ہونے لگے. گاﺅں کے چند سو باسی اسرائیلی ریاست کے ظلم کے آگے ڈٹ گئے اور بار بار اپنے گھر تباہ ہونے پر جھونپڑیاں بنا کر رہنے لگے لیکن اسرائیل کی بدمعاشی کا یہ عالم تھا کہ اسے ان کی جھونپڑیاں بھی گوارا نہ تھیں، لہذا انہیں بھی برباد کر دیا جاتا. اس رمضان المبارک کے دوران بھی عراقب گاﺅں کے باسیوں کی جھونپڑیوں کو دو دفعہ تباہ کیا گیا ہے. 29 جون کو اسرائیلی فوج نے اس گاﺅں کو 100 ویں مرتبہ تباہ کیا ہے. گاﺅں کے رہائشی عزیز الطوری نے بتایا کہ سب لوگ سحری کے بعد سو گئے، لیکن تقریباً ایک گھنٹے بعد فضاءمیں ہیلی کاپٹر کی آواز آنے لگی جبکہ زمین پر اسرائیلی فوج کی گاڑیاں اور بلڈوزر آگئے. ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جلدی میں کچھ سامان نکالا اور گاﺅں کے قبرستان میں لیجا کر چھپا دیا. اسی دوران بلڈوزروں نے جھونپڑیوں کو گرانا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ ایک بار پھر تباہ ہو چکا تھا.

00

انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا ”ہماری زندگی بہت خوبصورت تھی. ہم باجرہ اور گندم اگایا کرتے تھے، جبکہ ہمارے پانچ زیتون کے 100 درخت بھی ہوا کرتے تھے. یہاں ہر ایک کے پاس اپنا ٹریکٹر تھا. ہم زیتون کا تیل نکال کر فروخت کیا کرتے تھے. ہمارے پاس بھیڑ بکریاں بھی ہوا کرتی تھیں. میرے اور میری بیوی کے پاس 500 سے زائد مرغیاں بھی تھیں. ہم بہت ہی اچھی زندگی گزار رہے تھے کہ وہ سیاہ دن آگیا ، 27 جولائی 2010 کا دن، جب ہمارے گاﺅں کو پہلی بار برباد کیا گیا، اور پھر اسے بار بار برباد کیا گیا حتی کہ اس رمضان المبارک اسے 100 ویں مرتبہ تباہ و برباد کیا گیا. “ اپنے گھروں کو 100 بار برباد ہوتا دیکھنے والے ان فلسطینیوں کے عزم و ہمت کا اندازہ گاﺅں کی ایک معمر خاتون حقمہ ابو مدیجم کے اس بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، ”میں اپنے گھر کی بار بار بربادی سے تھک گئی ہوں، لیکن میں یہیں رہوں گی. وہ اسے 200 مرتبہ بھی تباہ کریں تو میں نہیں جاﺅں گی. میرے لیے یہ دنیا کی خوبصور ت ترین جگہ ہی رہے گی. “

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top