موت کی وادی کے کنارے پر کھڑے افراد کیسا محسوس کرتے ہیں

8

اسلام آباد (قدرت روزنامہ14فروری2017)موت کی وادی کے کنارے پر کھڑے افراد کیسا محسوس کرتے ہیں، یہ سوال ہر اس شخص کو بے چین رکھتا ہے جو اپنے اندر تجسس کا مادہ رکھتا ہے. اس وقت کیا واقعی میں بچپن فلم کی مانند آنکھوں کے آگے سے گزرتا ہے، جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے یا پھر آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہوجاتی ہیں جیسا کہ ایک اور گروہ دعوی کرتا ہے؟ یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوالات ماہرین کے ذہن میں بھی کلبلاتے رہتے ہیں.

اس کیفیت کو جاننے کیلئے ماہرین نے نزع کی کیفیت میں مبتلا کچھ افراد کا معائنہ کیا اور چند حیرت انگیزحقائق کے ہمراہ سامنے آئے. ماہرین کا کہنا تھا کہ اس وقت انسان شدید سرور کی کیفیت اور جذبات کے بہاؤ میں ہوتا ہے. ماہرین نے آخری ہچکیاں لیتے مریضوں کے ای ای جی سکینز سے جانا ہے کہ اس وقت دماغ میں برقی توانائی کا ایک طوفان سا امڈ جاتا ہے. یہ طوفان تیس سیکنڈ سے 180سیکنڈز کے بیچ تک برقرار رہتا ہے. اس موقع پر ماہرین نے ایک درجن سے زائد نیوروٹرانسمیٹرز کو بھی متحرک دیکھا. ان میں ڈوپامین بھی شامل تھا اور نوریپائنفرین بھی. ڈوپامین انسان کے اندر خوشی اور اطمینان کی کیفیت پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے. سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شائد موت کے طویل انتظار کے خاتمے کے باعث خوشی کی یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے. نوریپائنفرین جسم کو چوکنا کرتا ہے. خیال ہے کہ ایک بالکل نئے تجربے کا احساس جسم کو چوکنا کرتا ہے.موت کے وقت کچھ افراد یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خود کو ایک اندھیرے غار میں محسوس کیا جس کے دہانے سے روشنی پھوٹ رہی تھی اور جو انہیں بھی روشن کررہی تھی . کچھ افراد خود کو اس روشنی کی جانب کھنچتا ہوا محسوس کرتے ہیں. ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کیفیت خون کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اور آنکھوں کی جانب آتے ہوئے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کا نتیجہ ہوسکتی ہے.ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روایتی نظریئے کے برعکس موت کا سبب دماغ میں ہونے والی سرگرمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top