امام مسجد محمد یوسف کو اس بات کا شدید رنج تھا کہ گداگر اس کی مسجد کے اردگرد جمع رہتے تھے۔ محمد یوسف نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے گداگروں کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ13فروری2017)گداگری کا مسئلہ کم و بیش ہر جگہ پایا جاتا ہے اور اسے ختم کرنے کے لئے کئی طرح کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں، لیکن نائیجیریا کے ایک امام مسجد نے اس مسئلے کا ایسا ظالمانہ حل ڈھونڈا کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے.  لاگوس شہر سے تعلق رکھنے والے امام مسجد محمد یوسف کو اس بات کا شدید رنج تھا کہ گداگر اس کی مسجد کے اردگرد جمع رہتے تھے.

محمد یوسف نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے گداگروں کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا. اس نے بڑی مقدار میں کیک خرید کر اس کے اندر زہر اور سوئیاں چھپادیں، اور اپنی بیٹی سلامت یوسف سے کہا کہ وہ یہ کیک مسجد کے باہر موجود گداگروں میں تقسیم کردے.امام مسجد کی 18 سالہ بیٹی، جو کہ اس سازش کا حصہ تھی، نے مسجد کے باہر موجود تمام گداگروں میں زہریلا سوئیوں والا کیک تقسیم کردیا. بھوک کے مارے بھکاریوں نے جونہی کیک کھانا شروع کیا تو سوئیوں اور زہر کے باعث ان کی حالت غیر ہونے لگی، جس پر پولیس کو اطلاع کردی گئی. پولیس نے موقع پر پہنچ کر 50 سالہ امام مسجد اور اس کی نوجوان بیٹی کو گرفتار کرلیا. امام مسجد نے تفتیش کے دوران اعتراف کرلیا کہ وہ اپنی مسجد کے اردگرد گداگروں کی موجودگی کو پسند نہیں کرتا تھا اور ان سے نجات کے لئے ان کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا. دونوں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top