نسل پرستی تقسیم کرنے والی طاقت ہے،میں نے مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک مسترد کیا،صدر اوبامہ کا الوداعی خطاب

41

واشنگٹن(اے این این) امریکہ کے 19جنوری کو سبکدوش ہونے والے صدر باراک اوبامہ نے شکاگو میں اپنے الوداعی خطاب میں واضح کیا ہے کہ نسل پرستی تقسیم کرنے والی طاقت ہے،میں نے مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک مسترد کیا،امریکہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے ، عوام اپنی جمہورت کا دفاع کریں، اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے،ہمیں ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنا اور دوسروں کی بات کو سننا ہے ، آٹھ سال پہلے کی نسبت اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے بہتر اور مضبوط جگہ ہے امریکی صدر براک اوباما نے شکاگو میں قوم سے الوداعی خطاب میں امریکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جمہوریت کا دفاع کریں.اوباما نے اپنے آخری خطاب میں اپنی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور تمام امریکیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ امریکہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے.

تاہم انھوں ںے خبردار کیا کہ جب بھی جمہوریت کو ہلکا لیا تو وہ خطرے میں پڑ جاتی ہے.انھوں نے ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے کہا کہ ایک دوسرے کے نقط نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ ہمیں اوروں کو توجہ دینی اور سننا ہے.براک اوباما نے اپنے روایتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی پرامن منتقلی امریکی جمہوریت کی علامت ہے.براک اوباما نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے الواداعی خطاب کرنے کی بجائے اسی جگہ یعنی شکاگوجانا چاہتے تھے جہاں سے ان کے اور خاتون اول مشیل اوباما کے لیے یہ سب شروع ہوا تھا.یہ براک اوباما کا شکاگو کا آخری دورہ اور ایئر فورس ون پر 445واں سفر ہے. امریکی صدر نے 2008 میں منتخب ہونے کے بعد پہلا خطاب بھی شکاگو ہی میں کیا تھا.انھوں نے کہا کہ آٹھ سال پہلے کی نسبت اس وقت امریکہ ہر لحاظ سے بہتر اور مضبوط جگہ ہے. ان کا اشارہ ملک کو معاشی بدحالی سے باہر نکالنے اور صحتِ عامہ کے پروگرام کی طرف تھا جس کا انہوں نے اپنی مہم میں وعدہ کیا تھا.اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تمام امریکیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکومت ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل نکالے، اور یہ کہ وہ نئی انتظامیہ کو اقتدار کی منقلی کو آسان تر بنائیں گے.انہوں نے کہا "یہ سمجھ لیجیے کہ جمہوریت کو یکسانیت کی ضرورت نہیں ہوتی".ان کے بقول "ہمارے بانیوں نے جھگڑے اور سمجھوتے کیے، اور ہم سے بھی اسی کی توقع کی. لیکن وہ جانتے تھے کہ جمہوریت کو یکجہتی کا ایک بنیادی احساس چاہیے ہوتا ہے."باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں، انہوں نے یہ ذکر کیا کہ ان کے انتخاب کے بعد بہت سے لوگوں کی رائے میں امریکہ نسلی امتیاز کے دور سے آگے نکل گیا تھا.لیکن انہوں نے کہا کہ نسل پرستی ابھی بھی "ایک قوی اور تقسیم کرنے والی طاقت ہے" اور زور دیا کہ نسلی امتیاز کے خلاف قوانین کی بالادستی قائم کی جائے.صدر اوباما نے کہا کہ خوف کا مقابلہ کرتے ہوئے امریکہ کو اپنے کمزور ہوتی اقدار کی حفاظت کرنی ہو گی، انہوں نے تشدد کے خاتمے کی اپنی کوششوں، لوگوں کی جاسوسی کرنے کے قوانین اور کیوبا میں فوجی جیل گوانتاناموبے کو بند کرنے کی اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا.اوباما نے کہا "اسی لیے میں نے امریکی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مسترد کیا" اور اس موقع پر شائد اس خطاب میں سب سے زوردار تالیاں بجائی گئیں.اوباما نے آخر میں تمام امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی لانے کے لیے اپنے آپ پر یقین رکھیں.اوبامہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر ہیں جن کی عمر اس وقت 55 برس ہے، پہلی مرتبہ 2008 میں امید اور تبدیلی کے وعدوں پر منتخب ہوئے تھے.شمالی امریکہ کے سب سے بڑے کنونشن سینٹر میک کورمک پلیس جہاں صدر اوباما نے 2012 کے صدارتی انتخاب میں مٹ رومنی کو شکست دینے کے بعد خطاب کیا تھا، وہاں بدھ کے روز ان کے الوداعی خطاب میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اطلاعات کے مطابق 20 ہزار سے متجاوز تھی.الوداعی تقریب میں امریکی خاتونِ اول مشیل اوباما،ان کی بچیاں ، نائب صدر جو بائڈن اور ان کی اہلیہ جل بائڈن موجود تھے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top