گورنر قندھار کے کمپاؤنڈ پرحملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے،افغانستان کا الزام

کابل/اسلام آباد / وشنگٹن /دبئی (نیو ایجنسیاں )افغان صوبہ قندھار کے پولیس چیف جنرل عبدالرازق نے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے .بدھ کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق جنوبی صوبہ قندھار کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرازق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ روز گورنر کے کمپاؤنڈ پر ہونیوالے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے .

انکا کہنا تھاکہ حقانی نیٹ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی صوبائی قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے طویل مدت سے کام کررہے ہیں.مزید وضاحت کیے بغیر انکا کہنا تھاکہ حکومتی عمارتوں پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں .واضح رہے کہ گزشتہ روز افغانستان کے درالحکومت اور جنوبی صوبے قندھار میں ہونے والے بم دھماکوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور متحدہ عرب امارات کے سفیر سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے.قندھار میں گورنر ہاؤ س کے کمپانڈ میں ہونے والے بم دھماکے میں 9 افراد ہلاک ہوئے جس میں متحدہ عرب امارات کے پانچ سفارتی اہلکاربھی شامل ہیں.قبل ازیں افغان دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کے قریب یکے بعد دیگرے ہونے والے 2 دھماکوں میں 30سے زائد افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوگئے. کابل میں ہونے والے دھماکے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں ہونے والے دھماکے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوئے،ہلمند میں ہونے والے دھماکے میں 7 افراد ہلاک ہوئے تھے. امریکہ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بدستور موجود ہیں جنھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان افغانستان پر حملے کرنے والے دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دے ،دہشتگردی کے خلاف مل کر کا م کرنے کی ضرورت ہے جو خطے کی بہتری کیلئے ضروری ہے .غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے افغان حکام کی جانب سے افغانستا ن میں حملوں کیلئے پاکستانی سرزمین کو استعمال کرنے کے خدشات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے مسئلہ اب بھی برقرار ہے .انکا کہنا تھاکہ ہم عوامی سطح پر یہ بات کہتے ہیں کہ پاکستان دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرے جو افغانستان پر حملوں کیلئے اسکی سرزمین استعمال کرتے ہیں.مارک ٹونر کا مزید کہنا تھاکہ دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے سے متعلق کچھ اقدامات اٹھائے گئے ہیں پیش رفت ہوئی ہے تاہم واضح طور پر مسئلہ برقرار ہے اور یہ سب ہماری پاکستان کے ساتھ بات چیت کا حصہ ہے . ہم انکی مدد کرنے کو تیار ہیں.انکا کہنا تھاکہ دہشتگردی کے خلاف مل کر کا م کرنے کی ضرورت ہے اور یہ خطے کی بہتری کیلئے ضروری ہے .متحدہ عرب امارات نے قندھار کے گیسٹ ہاوس میں گزشتہ روز ہونیوالے خودکش حملے میں اپنے 5سفارتکار وں کی ہلاکت کی تصدیق کردی جبکہ دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 56ہوگئی یو اے ای نے دھماکوں کی شدید مذمت اور ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداکے اعزازمیں قومی پرچم سرنگوں رہے گا.غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں گزشتہ روز دھماکوں میں 50کے قریب افراد ہلاک اور 100سے زائد زخمی ہوگئے تھے .متحدہ عرب امارات نے گورنر قندھار کے گیسٹ ہاوس میں ہونیوالے خودکش حملے میں5 سفارتی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے .حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے سفارتکاروں کی شناخت محمد علی زینال البسطاکئی،عبداللہ محمد عیسی عبید الکبئی ،احمد راشد سلیم علی المزروئی ،احمد عبدالرحمان احمد الطناجی اور عبدالحمید سلطان عبداللہ ابراہیم الحمدئی کے نام سے ہوئی ہے .یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ نے واقعے پر ملک بھر میں تین روز ہ سوگ اور پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے . ذرائع کے مطابق دھماکے وقت متحدہ عرب امارات کے سفیرجمعہ محمد عبداللہ الکابی اپنے ساتھیوں سمیت افغان حکام کے ساتھ میٹنگ میں مصروف تھے ، زخمیوں میں اماراتی سفیربھی شامل ہے .دبئی کے امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہا کہ ایسے لوگوں کی قتل وغارت گری کی کوئی انسانی ، اخلاقی یا مذہبی دلیل نہیں جو لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہے تھے .دوسری طرف کابل میں پارلیمان کے مرکزی دروازے پر خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے فوری بعد سڑک پر کھڑی ایک گاڑی میں بھی دھماکہ ہوگیا اور مجموعی طور پر 30 افراد ہلاک اور80 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ہلاک افراد میں پارلیمان کے عملے کے ارکان سمیت عام شہری شامل ہیں.خیال رہے کہ شورش زدہ افغانستان میں بم دھماکے ہونا کوئی نئی بات نہیں، افغانستان کے دارلحکومت سمیت اہم شہروں میں دھماکوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کابل میں اس سے پہلے بھی اہم عمارتوں اور سیکیورٹی افسران کو دھماکوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے.گزشتہ برس جون میں کابل میں افغان پولیس کے قافلے پر خودکش حملا کیا گیا، جس کے نتیجے میں 27 اہلکار ہلاک ہوگئے، جب کہ اس حملے کے چند دن بعد جولائی میں افغان ایئرفورس کے افسران کو لے جانے والی ایک بس کے قریب خود کش بم دھماکا کیا گیا، جس کے نتیجے میں چار افسران ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہو گئے.افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کا بہترمفاد افغان حکومت کے ساتھ ہے،کچھ ممالک اچھے برے دہشتگردوں میں فرق کرتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ جودہشتگردملک سے باہرکارروائیاں کریں وہ اچھے دہشتگردہوتے ہیں،اسلامی ممالک افغانستان میں امن کے لیے مدد کریں، طالبان ا پنے آپ کودہشتگرد گروپوں سے علیحدہ کریں ،دہشتگرد گروپ اسلامی ممالک کے لیے خطرہ ہیں.ایک عرب اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھاکہ طالبان ا پنے آپ کودہشتگرد گروپوں سے علیحدہ کریں ،دہشتگرد گروپ اسلامی ممالک کے لیے خطرہ ہیں،سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک شدت پسندرہنماوں پرمفاہمت کیلئے دباو ڈالیں.افغانستان کے سعودی عرب،یواے ای اے سمیت اسلامی ممالک سے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کا بہترمفاد افغان حکومت کے ساتھ ہے، داعش پورے خطے کیلئے خطرہ ہے.انکا کہنا تھا کہ کچھ ممالک اچھے برے دہشتگردوں میں فرق کرتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ جودہشتگردملک سے باہرکارروائیاں کریں اچھے دہشتگردہوتے ہیں.آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے شہروں کابل اور قندھار میں دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف افغان فوج اور بھائیوں کے ساتھ کھڑ ی ہے. بدھ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف افغان فوج اور بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top