اسرائیلی دوشیزاؤں کی پاکستان آمد سرکاری افسران سے راز اگلوانے کی سازش

بیت المقدس (قدرت روزنامہ12فروری2017)اسرائیل کو مضبوط بنانے اور مشرق وسطیٰ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرات کو ختم کرنے اور حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لیے شام پر امریکہ نواز حکومت مسلط کرنے کے امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد اب اسرائیل کی حکومت نے پوری دنیامیں جاسوسی کاجال بچھانے کے ایک نئے منصوبے کاآغاز کیاہے اور اس منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے اسرائیل کی خوبصورت اور کم عمر لڑکیوں کو استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے .

اس فیصلے کے تحت اسرائیل نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسی موساد میں جس کے بیشتر اعلیٰ افسران امریکی سی آئی اے کے تربیت یافتہ ہیں ،خوبصورت لڑکیوں کو شامل کرکے انھیں مختلف حیثیتوں میں مختلف ممالک میں تعینات کرنے اور اپنے اہداف کوجال میں پھنسا کر کام لینے کیلئے استعمال کرنے کا پروگرام بنایا ہے.

بعض سفارتی حلقوں کے قریبی ذرائع کاکہناہے کہ اسرائیل اپنی انٹیلی جنس کا دائرہ اب مسلم ممالک میں وسیع کرنے اور مسلم ملکوں کے راز معلوم کرنے اور اسی اعتبار سے اپنی حکمت عملی وضع کرے گا، ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ اسرائیل موساد میں لڑکیوں کی بھرتی کے بعد اپنے دوست ممالک کے ذریعے پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں انھیں تعینات کرنا چاہتاہے ، اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ ،جرمنی،بھارت اور بعض دوسرے قریبی دوست ممالک کی مدد حاصل کرسکتاہے،ذرائع کاکہناہے کہ بظاہر پروگرام یہ معلوم ہوتاہے کہ اسرائیل کی تربیت یافتہ موساد کی جاسوس لڑکیوں کو اسرائیل کے دوست ممالک کے سفارتی عملے کے ساتھ مسلم ممالک میں تعینات کیاجائے گا جہاں وہ اعلیٰ افسران اور حکام سے روابط پیدا کرکے ان سے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گی. لڑکیوں اور تربیت یافتہ خواتین سے جاسوسی کاکام لینا اپنی نوعیت کی کوئی منفرد بات نہیں ہے،اقوام عالم کی تاریخ خواتین جاسوسوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے،خواتین جاسوسوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں،اس حوالے سے دنیا شاید ماتاہری کے کارناموں کو کبھی فراموش نہ کرسکے ، اس لئے اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی میں لڑکیوں کوشامل کرنے کافیصلہ اپنی نوعیت کاکوئی عجوبہ فیصلہ نہیں ہے اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کیاجاسکتا،لیکن ان خواتین جاسوسوں سے کام لیے جانے کے حوالے سے جو قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں وہ اگرچہ اسرائیل جیسے ملک کے حوالے سے ناقابل یقین نہیں ہیں لیکن قابل اعتراض ضرور ہیں اور پاکستان و دیگر تمام مسلم ممالک کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے.

1949 میں قائم کی گئی اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے. موساد کئی مشکل لیکن کامیاب آپریشنوں کے لیے مشہور ہے لیکن دوسری جانب اس پر بہت سے لوگوں کو قتل کرنے کے الزامات بھی ہیں. اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد نے پہلی بار خواتین کے لیے مخصوص بھرتی مہم کا آغاز کیا ہے.اسرائیل کے مختلف اخبارات میں اس حوالے سے بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوئے ہیں جن کاعنوان ہے ’’ ‘ضرورت برائے طاقتور خواتین‘‘ اس جملے سے مزین شائع ہونے والے اشتہار میں ایک عورت کی مبہم سے تصویر بھی شامل کی گئی ہے.یاد رہے کہ موساد میں 40 فیصد افرادی قوت خواتین پر مبنی ہے جن میں سے 24 فیصد اہم سینئر پوزیشنوں پر فائز ہیں.موساد کے سابق سربراہ’’ تامِر پاردو ‘‘ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں بہتر اہلکار ہوتی ہیں. اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق انھوں نے 2012 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ خواتین کی ملٹی ٹاسکنگ کی صلاحیت اور انا پر قابو پانے کی وجہ سے وہ اپنا کام مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں. ’وہ کام میں اچھی ہوتی ہیں، تو وہ بہت اچھی ہوتی ہیں.موساد کی ویب سائٹ پر اس نوکری میں دلچسپی لینے والی خواتین کے لیے پیغام ہے کہ ‘یہ اس بارے میں نہیں کہ آپ نے کیا کیا ہے، بلکہ اس بارے میں ہے کہ آپ کون ہیں.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top