دین اسلام آخرت سنوارنے کا زریعہ تو ہے ہی لیکن اس روشن راستے پر چلنے والے دنیا میں بھی سرفراز ہوتے ہیں

برلن (قدرت روزنامہ12فروری2017) دین اسلام آخرت سنوارنے کا زریعہ تو ہے ہی لیکن اس روشن راستے پر چلنے والے دنیا میں بھی سرفراز ہوتے ہیں، جس کی ایک خوبصورت مثال جرمنی میں مقیم وہ مسلمان خاتون ہے جس نے حجاب کی خاطر نوکری کو ٹھوکر ماری تو قدرت نے ڈھیروں دولت سے بھی نواز دیا. ویب سائٹ RT.COM کی رپورٹ کے مطابق یہ مسلمان خاتون ایک جرمن سکول میں ملازمت کے لئے گئیں تو سکارف پہن رکھا تھا.

انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ملازمت کے دوران سکارف پہننا جاری رکھیں گی، جس پر انہوں نے ”ہاں“ میں جواب دیا. یہ جواب سنتے ہی انہیں بتایا گیا کہ وہ کہیں اور جاکر ملازمت ڈھونڈیں. سعودی شہزادیوں نے ہزاروں لڑکیوں کے ساتھ مل کر وہ کام کردیا جو ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا، پوری دنیا دنگ رہ گئی متاثرہ خاتون نے اس بے انصافی پر عدالت کا رُخ کرلیا. برلن برینڈن برگ کی لیبر کورٹ نے ان کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ”سکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت سے محروم کرنا واضح طور پر امتیازی سلوک ہے. سکارف پہننے کی وجہ سے سکول یا اس کے ڈسپلن کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں تھا. انٹرویو کے دوران سکارف کے متعلق پوچھے جانے والے سوالات بھی امتیازی سلوک کا ثبوت ہیں.“ جج رینیٹ شارڈ نے حکم دیا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ہونے والی بے انصافی اور دلآزاری پر بطور ہرجانہ 8680 یورو (تقریباً 9لاکھ پاکستانی روپے) ادا کئے جائیں. واضح رہے کہ جرمنی کے نام نہاد نیوٹریلٹی لاءکے مطابق پولیس اہلکاروں، اساتذہ اور محکمہ انصاف کے ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران مذہبی لباس پہننے کی اجات نہیں ہے. عدالت نے حالیہ کیس میں جرمن وفاقی آئینی عدالت کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ شمالی رائن ویسٹ فالیہ صوبے میں سکارف پر پابندی خلاف قانون تھی...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top