بھارتی حکمرانوں نے کئی دہائیوں سے اپنی عوام کو اس فریب میں مبتلاءکر رکھا ہے کہ ان کا ملک برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے

n2

نئی دلی (قدرت روزنامہ12فروری2017) بھارتی حکمرانوں نے کئی دہائیوں سے اپنی عوام کو اس فریب میں مبتلاءکر رکھا ہے کہ ان کا ملک برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، لیکن گاہے بگاہے ایسے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں جو بھارتی معاشرے کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیتے ہیں. بھارتی دارالحکومت کے نواحی علاقے گروگرام میں قائم ’بچہ فیکٹری‘ بھی بھارتی معاشرے کا ایک ایسا ہی تاریک پہلو ہے، جس کے تفصیلی حقائق پہلی بار دنیا کے سامنے آئے ہیں.

یہاں ایک بنگلے میں رہائش پذیر یہ خواتین حمل کے مختلف مراحل میں ہیں اور امید کر رہی ہیں کہ ان کے ہاں بچوں کی ولادت بخیریت ہوگی، ورنہ وہ بھاری رقم کمانے کا موقع کھودیں گی. یہ کمرشل حمل کی خدمات فراہم کرنے والا ایک مرکز ہے، جہاں کرائے کی کوکھ فراہم کرنے والی متعدد خواتین رہائش پذیر ہیں. بھارت میں اس طرح کے کئی مراکز کام کر رہے ہیں.
 بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے اس کاروبار پر پابندی لگانے کا ارادہ سامنے آیا تو یہ کام مزید تیزی پکڑ گیا. ایک اندازے کے مطابق بھارت میں اس کاروبار کا مجموعی حجم 2.3 ارب ڈالر (تقریباً 2.3 کھرب پاکستانی روپے) ہے. انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے اس کاروبار میں ملوث لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں. اب ایک جانب حکومت اس کاروبار کو مجبور عورتوں کا استحصال قرار دیتے ہوئے بند کرنے کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب یہی خواتین، جو کمرشل حمل کی خدمات فراہم کرتی ہیں، اسے جاری رکھنے کے لئے بے تاب ہیں. انہیں ایک بچے کو جنم دینے کے بدلے 6 ہزار ڈالر (تقریباً 6لاکھ پاکستانی روپے) مل جاتے ہیں. غریب طبقات سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین اتنی بڑی رقم کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتیں.
 حال ہی میں کرائے کے حمل کا معاہدہ کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے وہ دیگر خواتین کو اس کاروبار میں لانے کا کام کرتی تھی، جس کے لئے اسے فی خاتون 5ہزار روپے بطور کمیشن ملتے تھے. جب اس نے پابندی کی خبریں سنیں تو خود بھی کرائے پر حاملہ ہونے کے لئے تیار ہوگئی. اس خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں نے اس کے فیصلے کی تائید کی ہے کیونکہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر گردہ بیچنے سے یہ کام بہتر ہے. وہ حمل کے 9ماہ کے دوران ایک مرکز میں رہے گی اور اس دوران اسے کبھی کبھار اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت ہوگی. ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کام خواتین کا استحصال ہے اور غیر اخلاقی بھی ہے، لیکن اس خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے لئے یہ بات زیادہ اہم ہے کہ اسے اپنے بچے پالنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top