امریکی ریاست ڈیلاس میں مقیم ایک شامی مسلمان کی زیورات کی دکان میں امریکی لڑکی اپنی انگوٹھی بیچنے آئی لیکن لڑکے نے ایک ایسی مثال قائم کر دی کہ بے اختیار لڑکی کے آنسو جاری ہو گئے

ڈیلاس (قدرت روزنامہ10فروری2017) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کو امریکہ سے باہر نکالنے کے درپے ہیں لیکن دوسری جانب وہاں مقیم مسلمان اپنی دریا دلی کے باعث ایسی مثالیں قائم کر رہے ہیں جس سے پوری دنیا میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہو رہا ہے.

 تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست ڈیلاس میں مقیم ایک شامی مسلمان کی زیورات کی دکان میں امریکی لڑکی اپنی انگوٹھی بیچنے آئی لیکن لڑکے نے ایک ایسی مثال قائم کر دی کہ بے اختیار لڑکی کے آنسو جاری ہو گئے جبکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا.
لڑکی نے دکان میں داخل ہو کر لڑکے کو اپنی انگوٹھی دی اور کہا کہ میں اسے بیچنا چاہتی ہوں. لڑکے نے کچھ دیر انگوٹھی دیکھنے کے بعد پوچھا کہ وہ اسے کیوں بیچنا چاہتی ہے جس پر لڑکی نے بتایا کہ میں بالکل کنگال ہو چکی ہوں اور مجھے اگلے مہینے سے پہلے پیسے نہیں ملیں گے. لڑکے نے انگوٹھی لڑکی کو واپس دیدی اور اپنی دکان کے کاﺅنٹر پر پڑا سامان رکھنا شروع کر دیا جس کے بعد وہ دوبارہ لڑکی کے پاس آ گیا. لڑکی نے دوبارہ انگوٹھی اس کے سامنے رکھ دی تو لڑکے نے اس کے اصلی ہونے کی تصدیق کرنے کیلئے جانچ پڑتال شروع کر دی. لڑکے نے دوبارہ سوال کیا کہ تمہارے انگوٹھی بیچنے کی صرف یہی وجہ ہے کہ تمہارے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں؟ تو لڑکی نے جواب دیا کہ دراصل میری ماں نے یہ انگوٹھی تحفے میں مجھے دی تھی لیکن مجھے ایک مسئلہ ہے جسے حل کرنا ضروری ہے.
 لڑکی کی بات سنے پر لڑکے نے سوال کیا کہ تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟ تو لڑکی نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں مگر انگوٹھی کی قیمت کے طور پر ملنے والی رقم سے ضرور کچھ مدد ملے گی. لڑکے نے یہ سن کر انگوٹھی نا لینے کا فیصلہ کیا اور امریکی لڑکی کو ڈھیروں ڈالرز دیدئیے لیکن اور اس کیساتھ ہی انگوٹھی بھی اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ ”یہ رہی آپ کی انگوٹھی.“
 امریکی لڑکی یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی اور کچھ لمحات کیلئے تو ہل بھی نہ سکی. اس نے انگوٹھی لینے سے انکار کیا لیکن لڑکے نے یہ کہتے ہوئے اسے زبردستی انگوٹھی واپس دیدی کہ یہ اس کی ماں نے اسے تحفے میں دی تھی. لڑکی مسلمان لڑکے کی دریا دلی پر آنسو بہاتی ہوئی اس کے گلے لگی اور شکریہ ادا کیا. یہی نہیں بلکہ اس نے اپنا نمبر بھی لڑکی کو دیا اور کہا کہ اگر اسے مزید کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ اس سے رابطہ کر سکتی ہے جبکہ یہ بھی ہدایت کی کہ وہ کہیں اور جا کر اپنی انگوٹھی مت بیچے اور اگر بیچنی ہی ہو تو دوبارہ اس کی دکان پر آ جائے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top