بدنامِ زمانہ گینگ ریپ یا اجتماعی جنسی زیادتی سنہ 2013 اور 2014 میں نصف سے زیادہ ایسی رپورٹیں جھوٹی تھیں

ممبئی (قدرت روزنامہ10فروری2017)سنہ 2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک طالبہ سے بدنامِ زمانہ گینگ ریپ یا اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد انڈیا بھر میں پولیس کے پاس رپورٹ ہونے والے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.تاہم ایک سروے کے مطابق سنہ 2013 اور 2014 میں نصف سے زیادہ ایسی رپورٹیں جھوٹی تھیں.

اس سے مرد کارکنوں کے ان دعوؤں کو تقویت ملی جن کا موقف ہے کہ خواتین مردوں سے رقم بٹورنے کے لیے ریپ کے الزامات لگاتی ہیں.

یوگیش گپتا کو ہمیشہ سے یقین تھا کہ ان کے پاس خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد ہیں. البتہ پولیس کو یہ باور کروانا ایک اور بات تھی.یوگیش دہلی میں جائیداد کی خرید و فروخت کرتے ہیں. ان کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے ایک ملازم کو مالی خرد برد میں ملوث پایا اور پولیس کے پاس جانے کی دھمکی دی.اس ملازم نے ایک عورت کو مجبور کیا کہ وہ مکان خریدنے کے بہانے یوگیش گپتا کے پاس جائے. اس عورت نے بعد میں ان سے میٹرو اسٹیشن تک لفٹ مانگی. بعد میں اس نے الزام لگایا کہ یوگیش نے اسے ایک خالی اپارٹمنٹ میں لے جا کر ریپ کیا.انھوں نے کہا: ’شکر ہے کہ میرے دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں.’اسے سیڑھیوں سے چوتھی منزل پر واقع فلیٹ میں لے جانے، باہر آنے اور پھر میٹرو سٹیشن پر چھوڑنے میں کم سے کم 37 سے 40 منٹ لگتے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top