داعشی جنگجو اغواء کے بعد نوجوان لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، نادیہ مراد

دمشق(قدرت روزنامہ10فروری2017)عراق میں داعش تنظیم کے ہاتھوں اغوا اور عصمت دری کا نشانہ بننے والی نادیہ مراد نے انکشاف کیا ہے کہ تقریبا 6500 لڑکیاں اور خواتین ایسی ہیں جن کو اس کی طرح تنظیم کے ارکان کے ہاتھوں عذاب سے دوچار ہونا پڑا.ااسکاٹ لینڈ کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں نادیہ نے بتایا کہ وہ لوگ بچوں کو تربیتی کیمپوں میں لے جاتے ہیں اور دیگر بہت سوں کو قتل کر ڈالتے ہیں.

نادیہ نے کہا کہ ان کے سامنے ہمیں قطعا یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہم انسان ہیں یا ہماری کوئی قیمت ہے، انہوں نے 6500 سے زیادہ لڑکیوں اور خواتین کو باندی بنایا اور انہیں مختلف مقامات پر لے گئے. وہ عورت کے ساتھ جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں. میرا انجام یہ ہونا تھا ، میں بھی ان کا ایک شکار تھی اور انہوں نے میرے ساتھ بھی سب کچھ کیا.نادیہ مراد نے داعش تنظیم کی قید میں گزرنے والے خوف ناک دنوں کی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نو برس سے زیادہ عمر کی تمام لڑکیوں کو علیحدہ کر کے انہیں باندی بنا لیا اور پھر انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور حسب خواہش ان لڑکیوں کے ساتھ سب کچھ کیا.نادیہ نے بتایا کہ میں ان کے ہاتھوں بہت سے جرائم کا نشانہ بنی جن کو زبان پر لانا کسی کے لیے بھی بہت دشوار ہے. میں نے کم عمر لڑکیوں کو دیکھا جن کو جنسی عمل کے لیے باندی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا. انہیں روزانہ زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا . انہوں نے کہا کہ داعش تنظیم کے حملے کا نشانہ بننے والے یزیدی لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اسلام یا موت میں سے ایک چیز اختیار کرلیں جب کہ چھوٹی لڑکیون کو جنسی عمل کے واسطے غلام بنا کررکھا جاتا تھا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top