داعش کی مذہبی پولیس ”حصباح“ (Hisbah)کی خواتین بریگیڈ الخنساءنے ایک 10سالہ لڑکی کو ایسی بربریت سے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے کہ سن کر ہی روح کانپ اٹھے

n8

بغداد(قدرت روزنامہ08فروری2017)عراقی فوج کی طرف سے موصل شہر کا بڑا حصہ شدت پسند تنظیم داعش کے قبضے سے چھڑوانے کا کئی بار دعویٰ کیا جا چکا ہے لیکن اب بھی اس کا بہت سا حصہ داعش کے مکمل کنٹرول میں ہے جہاں اسی کا قانون چل رہا ہے. موصل کے اس حصے میں گزشتہ روز داعش کی مذہبی پولیس ”حصباح“ (Hisbah)کی خواتین بریگیڈ الخنساءنے ایک 10سالہ لڑکی کو ایسی بربریت سے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے کہ سن کر ہی روح کانپ اٹھے.

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق فطین نامی یہ لڑکی گھر کی صفائی کرتے ہوئے بغیرپردہ کیے دہلیز سے باہر آ گئی تھی جس پر اسے حصباح کی خواتین اہلکاروں نے پکڑ لیا.
الخنساءکی خواتین شدت پسندوں نے لڑکی کی ماں سے پوچھا کہ اب وہ اپنی بیٹی کے جرم کی سزا بھگتے گی یا بچی کو سزا دی جائے. اس پر ماں نے بچی کو سزا دینے کا کہہ دیا. زنانہ پولیس نے بچی کو قتل کرنے کے لیے جو ہتھیار استعمال کیا وہ کئی صدیاں قبل قرون وسطیٰ میں مجرموں کو پھانسیاں دینے کے لیے استعمال ہوتا تھا. یہ ایک چمٹا نما ہتھیار ہے جس کے دونوں سروں پر تیز نوکیلے دندانے ہوتے ہیں. ان خواتین نے کم سن لڑکی کو ان خنجر نما دندانوں کے درمیان کھڑا کیا اور چمٹا دبا دیا جس سے زہر میں بجھائے گئے یہ چاروں دندانے اس کے جسم میں پیوست ہو گئے اور لڑکی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی.رپورٹ کے مطابق داعش کے زیرقبضہ علاقوں میں پردے کے قانون کی سہواً خلاف ورزی پر اب تک سینکڑوں خواتین قتل کی جا چکی ہیں.
n7
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top