پسماندہ ممالک میں بچوں پر مظالم کے واقعات آپ نے بہت سنے ہوں گے، لیکن امریکا سے ایک ایسے اندوہناک واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ۔۔۔۔۔

نیویارک (قدرت روزنامہ08فروری2017)پسماندہ ممالک میں بچوں پر مظالم کے واقعات آپ نے بہت سنے ہوں گے، لیکن امریکا سے ایک ایسے اندوہناک واقعے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ جس پر حقیقت سے زیادہ کسی ڈراﺅنی فلم کا گماں گزرتا ہے. دی مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعات فلوریڈا کے آرتھر جی ڈوزیئر سکول فار بوائز میں پیش آتے رہے، جہاں شیطان صفت اساتذہ نے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص کررکھا تھا جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی تھی اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا.

سکول کے ان وحشتناک کمروں کی تصاویر پہلی بار سامنے آئی ہیں جہاں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں قتل کر کے زمین میں دبا دیا جاتا تھا. ایک اندازے کے مطابق اس سکول میں 55 سے زائد طالبعلموں کو مار کر دفن کیا گیا. یہ سکول 1900ءمیں کھولاگیا تھا اور 2011ءمیں اسے ہمیشہ کے لئے بند کردیاگیا.
سکول کے سابقہ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ اساتذہ انہیں پیٹنے کے لئے تین فٹ لمبا کوڑا استعمال کرتے تھے. متعدد طلباءنے بتایا کہ ان کے کئی ساتھیوں کو ایک مخصوص کمرے میں لے جایا گیا اور پھر وہ دوبارہ کبھی نہیں دیکھے گئے. یہ سکول پورے امریکہ میں دہشت اور خوف کی علامت بن گیا اور گزشتہ کئی سال سے کوئی اس کی ویران عمارت کے اندر نہیں گیا تھا. حال ہی میں ایک 28 سالہ نوجوان نے اس کے اندرونی مناظر کی تصاویر بنائیں، جو انتہائی وحشت ناک ہیں. آسیب زدہ سکول کی تصاویر بنانے والے نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ جس جگہ درجنوں ننھے بچوں پر ظلم کی انتہا کی گئی وہ اندر سے کیسی نظر آتی ہے. امریکی تاریخ کے اس بھیانک ترین واقعے کی تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کو معلوم تھا کہ اس سکول میں کیا ہو رہا تھا مگر انہوں نے چپ سادھے رکھی، جس کا نتیجہ ایک بہت بڑے المیے کی صورت میں نکلا.
n4
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top