مسیحیوں میں عموماً صرف ایک شادی کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن ان کا ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو کثیرالازدواجی کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے

اوٹاوا(قدرت روزنامہ08فروری2017)مسیحیوں میں عموماً صرف ایک شادی کرنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن ان کا ایک فرقہ ایسا بھی ہے جو کثیرالازدواجی کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ جرم کی حد تک اس کا مرتکب بھی ہوتا ہے. کینیڈا میں اس فرقے کے سربراہ برینڈن جے بلیک مور نے 27شادیاں کر رکھی ہیں اور اس کے 145سے زائد بچے ہیں.

اس نے اپنی کئی بیٹیوں کو اپنے فرقے کے دیگر افراد سے شادی کرنے پر مجبور بھی کیا. امریکہ میں اس فرقے کے باقاعدہ چرچ موجود ہیں جن کے پادری بھی درجنوں شادیاں کرتے ہیں. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برینڈن نے اپنی تین کم عمر بیٹیوں کو سمگل کرکے امریکہ پہنچایا جہاں اس چرچ کے لیڈر وارن جیفس سے ان کی زبردستی شادی کروا دی.     n10   رپورٹ کے مطابق اس فرقے کے لوگ اپنی بیٹیوں کو سمگل کرکے لاتے ہیں اور وارن جیفس سے ان کی شادی کرواتے ہیں. وہ اسی طرح اب تک ان گنت شادیاں کر چکا ہے. لڑکیوں کی سمگلنگ اور زبردستی شادی کی خبر منظرعام پر آئی تو وارن جیفس کو گرفتار کر لیا گیا جسے اب قید کی سزا دی جا چکی ہے. اب کینیڈا میں برینڈن اور اس کی بیوی ایملی روتھ کو بھی گرفتار کرکے بیٹیوں کو سمگل کرنے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے. انہوں نے اپنی بیٹیوں ملی بلیک مور، الیشا بلیک مور اور نولیٹا بلیک مور کو امریکہ پہنچایا اور ٹیکساس میں واقع لیٹر ڈے سینٹس کے چرچ آف جیزس کرائسٹ کے لیڈر جیفس سے ان کی زبردستی شادی کروائی. اس وقت ان لڑکیوں عمریں بالترتیب 12،15اور 24سال تھیں. یہ تینوں لڑکیاں اس وقت لاپتہ ہیں اورکینیڈا اور امریکہ دونوں ملکوں کے حکام انہیں تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں. n9..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top