دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں یہودی اورمسلمان امن و سکون سے زندگی گزاررہے ہیں

30

پاناما سٹی(قدرت روزنامہ07فروری2017) مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ ہوچکے ہیں ، جس کی وجہ اسرائیل کی جاراحانہ پالیسیاں اور مسلمانوں کا قتل عام ہے لیکن دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں یہودی اورمسلمان امن و سکون سے زندگی گزاررہے ہیں.یہ نہ صرف امن والی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ اس ملک میں ان کے تعلقات بھی بہت اچھے ہیں.

پاناما نامی یہ ملک وسطیٰ امریکہ میں واقع ہے اور حال ہی میں اسے پاناما پیپرز کی وجہ سے شہرت ملی اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس کا چرچا ہے.

 ڈاکٹر محمد علی جو اپنا ملک مصر چھوڑنے کے بعد 10سال تک امریکہ میں رہتے رہے اور بالآخر پاناما میں رہنے لگے. انہیں پاناما میں رہتے ہوئے 15سال ہوچکے ہیں اور اب وہ اس ملک میں رچ بس گئے ہیں.جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی انہیں پاناما میں تعصب کا نشانہ بنایا گیا تو ان کاکہنا تھا کہ ”پاناما کی سوسائٹی بہت دوستانہ ہے اور تمام ایسے لوگوں کو قبول کرلیتی ہے جو ان سے مختلف ہوں.“
 اس ملک میں زیادہ تر مسلمان سپین سے سولہویں صدی میں پہنچے ،یہاں پر رہنے والے کئی مسلمانوں کا تعلق عرب ممالک جیسے لبنان، فلسطین اورشام سے ہے جبکہ یہ اوربرصغیر کے لوگ نہر پاناما کی تعمیر کے دوران یہاں آئے تھے.زیادہ تر مسلمان پاناما سٹی میں آباد ہیں جبکہ کچھ کولون میں رہتے ہیں. جب ڈاکٹر محمد علی سے پوچھا گیاکہ کیا اس ملک میں شیعہ اور سنیوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں لوگ اس طرح کے مسائل سے بالکل بھی آشنا نہیں اور وہ زیادہ تر تجارت اور کاروبار میں دلچسپی لیتے ہیں.اسرائیل کی جارحیت کے باوجود یہاں یہدی اور مسلمان اپن سے زندگی گزارتے ہیںاور دونوں طرف کے مذہبی رہنماﺅں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس امن کو اسی طرح قائم رکھا جائے.پاناماکی کل آبادی37لاکھ نفوس پر مشتل میں ہے جس میں 24ہزار مسلمان اور 12ہزار یہودی شامل ہیں.یہان امام اور رابی مل کر ایک دوسرے کی کمیونٹی کے درمیان بہترتعلقات بناتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کبھی بھی لڑائی دیکھنے میں نہیں آئی.”یہاں پر مسلمانوں اور یہودیوں نے مل کر کمپنیوں کی بنیاد رکھی.یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے بزنس پارٹنر سے نفرت کرنے لگیں.“ رابی گسٹاووکراسلنک کا کہنا تھا کہ وہ 1996ءسے یہاں رہ رہا ہے اور دونوں کمیونٹی کے لوگ کبھی بھی ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے نہیں پائے گئے.
 00
پاناما ان ممالک میں سے ایک ہے جس نے 2012ءکے اقوام متحدہ کے ریفرنڈ م میں اسرائیل کے حق اور فلسطین کے خلاف ووٹ دیا تھا. اس بات پر ڈاکٹر علی کا کہنا تھا کہ پاناما کی مسلم کمیونٹی یہاں کے سسٹم پر یقین رکھتی ہے اور اگر ہم حکومتی پالیسیوں سے متفق نہ بھی ہوں تب بھی ہم اسے مانتے ہیں.اس ملک کے دو صدور بھی یہودی گزرے ہیں جن میں میکس ماڈورو اور اس کا بھتیجا ایریک آرٹورو شامل ہیں.پہلے والے نے 1967ءاور دوسرے نے 1985ءسے1988ءتک حکومت کی.یہاں پر یہودیوں کی آبادکاری1920ءکے بعد تیزی سے بڑھی جس کی وجہ مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں بحران تھااور ان جگہوں پر یہودیوں کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوا تو وہ یہاں بھاگ آئے.
 001
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top