نام نہاد مہذب دنیا کے مہذب رہنماﺅں کو اپنے ہی پیداکردہ ’اسلامی شدت پسند‘ تو نظرآتے ہیں جنہیں اپنے مطلب کی برآوری کے بعد وہ اسلامک دہشت گرد قرار دے چکے ہیں

ینگون(قدرت روزنامہ06فروری2017)نام نہاد مہذب دنیا کے مہذب رہنماﺅں کو اپنے ہی پیداکردہ ’اسلامی شدت پسند‘ تو نظرآتے ہیں جنہیں اپنے مطلب کی برآوری کے بعد وہ اسلامک دہشت گرد قرار دے چکے ہیں مگر دنیا میں جابجا ہوتا مسلمانوں کا قتل عام انہیں نظر نہیں آتا. سوڈان میں عیسائیوں پر افتاد پڑی تو فوراً ملک کے دو ٹکڑے کرکے عیسائیوں کے لیے الگ ملک بنا دیا گیا مگر برما بہتی خون کی ندیوں کی کسی کو پروا نہیں کیونکہ وہ خون مسلمانوں کا ہے.

اقوام متحدہ کی کئی رپورٹس میں واشگاف الفاظ میں بتایا جا چکا ہے کہ برمی حکومت کی سرپرستی میں پولیس اور فوج روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے. اب اقوام متحدہ ہی کی ایک اور رپورٹ میں لرزہ خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ برمی فوج اور پولیس روہنگیا مسلمانوں کے بچوں کو خنجروں سے ذبح کر رہی ہیں.
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کے حکام نے برما سے فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والوں سے گفتگو کی. ایک ماں نے بتایا کہ ”ایک روزبرمی فوجی ہمارے گھر میں گھس آئے اور مجھے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا. میری 5سال کی بچی مجھے ان سے بچانے کی کوشش کرنے لگی. اس پر ایک فوجی نے چھرا نکالا اور میری بیٹی کا گلہ کاٹ کر اسے مارڈالا.“ایک اور خاتون نے بتایا کہ ”سرچ آپریشن کے بہانے فوجی ہمارے گھر میں گھسے اور ان میں سے 5نے مجھ سے اجتماعی زیادتی کی. اس کے بعد انہوں نے خنجر سے میرے 8ماہ کے بیٹے کا گلہ کاٹ کر اسے قتل کر دیا.“ ایک 14سالہ لڑکی نے بتایا کہ ”فوجیوں نے میری ماں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اور پھر اس پر تشدد شروع کر دیااور پیٹ پیٹ کر اسے جان سے مارڈالا. اس کے بعد انہوں نے میری دوبہنوں، جن کی عمریں 8اور 10سال تھیں، کے چھرے سے گلے کاٹ کر انہیں بھی قتل کر دیا.“
n12
رپورٹ کے مطابق برمی فوجی روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرنے اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل طعنے دیتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ ”تم بنگلہ دیشی ہو، واپس چلے جاﺅ ورنہ قتل ہو جاﺅ گے.“ یا وہ کہتے ہیں کہ ”تمہارا اللہ تمہارے لیے کیا کر سکتا ہے؟ اب دیکھو ہم تمہارے ساتھ کیا کر سکتے ہیں.“ ہیومن رائٹس آفس کے عہدیداروں نے 101برمی خواتین کے انٹرویوز کیے جن میں سے آدھی سے زیادہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہو چکی تھی. انٹریو کرنے والے 4عہدیداروں میں شامل لینیا ارویڈزسن کا کہنا تھا کہ ”یہ دل دہلا دینے والے انکشافات ہیں. میں نے اپنی زندگی میں ایسی خوفناک صورتحال نہیں دیکھی جہاں آپ 204لوگوں کے انٹرویو کریں اور ان میں سے ہر ایک خوفناک حالات سے گزر چکا ہو.کسی کے گھر جلایا گیا ہو، کسی کے ساتھ جنسی زیادتی ہو چکی ہو، کسی کے بچے یا دیگر رشتہ دار قتل کیے جا چکے ہوں.“
 لینیا ارویڈزسن کا مزید کہنا تھا کہ ”ہم نے جتنے لوگوں سے بات کی سب کے سب ہمیں اپنی دردناک کہانیاں سناتے ہوئے رو پڑے، حتیٰ کہ نوجوان مرد بھی.جب خواتین نے اپنے ساتھی ہونے والی اجتماعی زیادتی اور اپنی آنکھوں کے سامنے آنے بچے ذبح ہونے کے متعلق بتایا تو ان کی حالت انتہائی کرب ناک تھی. وہ مسلسل رو رہی تھیں.ہم صرف 204لوگوں کے درد کی تاب ہی نہ لا سکے تھے مگر بنگلہ دیش میں ایسے 88ہزار سے زائد مردوخواتین موجود ہیں، اور لاکھوں کی تعداد میں پیچھے برما کے اندر اب بھی ظلم برداشت کر رہے ہیں.شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشنز کی آڑ میں برما میں سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے. بچوں کے گلے کاٹے جانے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نسل کشی کے پیچھے تہذیبی اور نسلی تفاوت کارفرما ہے.یہ کہنا کہ یہ آپریشن ان شدت پسندوں کو تلاش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جنہوں نے مہینوں پہلے 9پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا، انتہائی احمقانہ بات ہے.ماں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر 10سال تک کے بچوں تک کے گلے کاٹنا، خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنا، سینکڑوں کی تعداد میں مردوں کو گاڑوں میں بھر کر لیجانا اور لاپتہ کر دینا، قتل کر دینا اور پھر کہنا کہ یہ شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن ہو رہا ہے تو اس سے زیادہ گھٹیا بات اور کوئی نہیں ہو سکتی.پولیس اہلکاروں کے قتل ہونے پر 8ماہ کے بچے کو قتل نہیں کیا جاتا. ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب آپ اس بچے کو انسان ہی نہ سمجھیں. بچوں پر ہونے والا یہ ظلم ناقابل برداشت ہے.“
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top