موسیٰ الصدر کے پیروکاروں نے ان کی گمشدگی کا الزام معمر قذافی پر لگایا تاہم انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا

بیروت(قدرت روزنامہ06فروری2017)1978ءمیں لیبیا کے حکمران معمر قذافی کی دعوت پر لبنان کے معروف شیعہ عالم موسیٰ الصدر لیبیا کے دورے پر گئے جہاں وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے. مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق موسیٰ الصدر کے پیروکاروں نے ان کی گمشدگی کا الزام معمر قذافی پر لگایا تاہم انہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا مگر اکثریت آج بھی یہی کہتی ہے کہ قذافی نے ہی انہیں لاپتہ کیا اور ممکنہ طور پر قتل کروا دیا.

2011ءمیں جب نیٹو افواج کے حمایت یافتہ باغیوں نے قذافی کی حکومت کا تختہ الٹا تو ان کا بیٹا ہانیبال قذافی اپنی ماں صفیہ اور بہن عائشہ کے ہمراہ فرار ہوا اور الجیریا چلا گیا. وہاں سے وہ عمان آیا اور وہاں سیاسی پناہ حاصل کر لی لیکن پھر وہ شام چلا گیا. لبنانی انٹیلی جنس ذرائع بتاتے ہیں کہ شام سے ہانیبال قذافی کو منصوبہ بندی کے تحت لبنان آنے کی ترغیب دی گئی اوردسمبر 2015ءجب وہ لبنان آیا تو امام موسیٰ کی 1974ءمیں قائم کردہ جماعت ’امل‘ کے لوگوں نے اسے اغواءکر لیااور اس پر تشدد کرکے اس سے امام کے متعلق دریافت کرنے کی کوشش کرتے رہے. جب امام موسیٰ کی گمشدگی کا واقعہ رونما ہوا تھا تب ہانیبال کی عمرصرف 3سال تھی چنانچہ وہ کسی طور ان کے متعلق کچھ بتانے سے قاصر تھے. اس کے بعد اغواءکاروں نے ان کی ایک ویڈیو بنا کر لبنان کے ٹی وی پر نشر کی جس میں وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”کوئی بھی ایسا شخص جو امام موسیٰ کے متعلق کچھ جانتا ہو، آگے آئے اور اس راز سے پردہ اٹھائے کہ وہ کہاں ہیں.“ جب اغواءکاروں کو ہانیبال سے کچھ معلوم نہ ہو سکا تو انہوں نے اسے لبنان کے شہر بعلبک میں رہا کر دیا مگر وہاں سے اسے لبنانی حکومت نے گرفتار کر لیا اور بیروت منتقل کر دیا.
رپورٹ کے مطابق لبنانی حکومت بھی امام موسیٰ کے لاپتہ ہونے پر تحقیقات کر رہی ہے اور اس حوالے سے امام موسیٰ کے خاندان نے جنرل قذافی پر ایک مقدمہ بھی دائر کروا رکھا ہے چنانچہ انہی وجوہات پر لبنانی حکومت نے اب تک ہانیبال کو اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے. 2016ءمیں قذافی کے 2حامیوں صباح موسیٰ اور احمد علی نے ایک طیارہ ہائی جیک کر لیا اور اسے لیبیا کے شہر تریپولی لے گئے اور پھر وہاں سے اسے مالٹا لیجا کر اتار دیا. انہوں نے یورپ میں سیاسی پناہ اور قذافی کی حامی سیاسی جماعت بنانے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ہانیبال کی لبنان سے رہائی کا بھی مطالبہ کیا. اس پرواز میں 118مسافر سوار تھے مگر بغیرکسی خون خرابے کے ان ہائی جیکرز نے سرنڈر کر دیا کیونکہ ان کے پاس جو اسلحہ اور گرنیڈ تھے وہ نقلی تھے. دونوں ہائی جیکرز کو مالٹا کی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا. لبنان اور دنیا بھر میں موجود امام موسیٰ کے حامیوں کو امید تھی کہ قذافی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کے متعلق کچھ سراغ مل سکے گا کہ آیا وہ قتل کیے جا چکے ہیں یا لیبیا کی کسی جیل میں قید ہیں. تاہم یہ معمہ تاحال معمہ ہی ہے اور ہانیبال اب تک لبنان کی قید میں ہے.
N2
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top