خونی لکیر کا کڑوا سچ‘27 سال سے بچھڑے کپوارہ کے خاندان کی ملاقات

سرینگر(قدرت روزنامہ06فروری2017)مقبوضہ کشمیر میںمحمد اشرف ان بدنصیب کشمیریوں میں سے ایک ہے جس کا خاندان 1990 ء میں مظفر آباد ہجرت کر گیا تھا لیکن سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے وہ خود سری نگر میں تعینات تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت نہ کرسکا.کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہجرت کرنے والے خاندان میں ان کے والدین، بیوی، 3 بیٹیاں اور 12 سالہ اکلوتا بیٹا محمد اصغر شامل تھے.

محمد اشرف نے 27 برسوں تک متعدد بار پاسپورٹ کے لیے درخواستیں دیں لیکن خاندان کے ہجرت کر جانے کی وجہ سے محمد اشرف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کو پاسپورٹ بھی نہیں دیا گیا. باالآخر 2016 کے آخر میں 80 سالہ محمد اشرف کی قسمت جاگ گئی اوراس کو پاسپورٹ جاری کرکے پاکستان جانے کی اجازت مل گئی.اس طرح 27 سال بعد محمد اشرف واہگہ بارڈ ر پار کرکے لاہور اور پھرمظفرآباد پہنچا.جہاں اس کا خاندان چہلہ بانڈی میں قائم مہاجر کیمپ میں رہائش پذیر ہے. واہگہ بارڈر پر محمد اشرف کے اکلوتے بیٹے اور پوتے کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد خصوصی طور پر اپنے بچھڑے بزرگ کو خوش آمدید کہنے پہنچے ہوئے تھے.محمد اصغر نے 15 سال پہلے 2000 ء میں دریائے نیلم کے کنارے اپنے والد کو ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا تھا. سرحد پار کرتے ہی محمد اشرف کی طرف لپکنے والے اکلوتے بیٹے محمد اصغر کی خوشی دیدنی تھی.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top