انسان کے لئے یہ تصور خوفناک ہے کہ زمین پر کوئی بڑی قدرتی آفت نازل ہو اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے

لندن (قدرت روزنامہ06فروری2017)انسان کے لئے یہ تصور خوفناک ہے کہ زمین پر کوئی بڑی قدرتی آفت نازل ہو اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ہمارا یہ خوف اب کسی بھی وقت حقیقت میں بدل سکتا ہے. ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید موسمیاتی تبدیلیاں، عالمی پیمانے پر پھیلنے والی کوئی وبا، یا ایٹمی جنگ وہ تین خطرات ہیں جن میں سے کوئی بھی اب کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے، اور اگر عالمی رہنماﺅں نے ان خطرات میں کمی لانے کی کوشش نہ کی تو ایک بدترین انجام ہمارا منتظر ہے.

آکسفورڈ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فلاسفی کے ادارے فیوچر آف ہیومنٹی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق کاروں نے مختلف شعبوں کے چوٹی کے ماہرین سے انٹرویو کئے اور ان سے جاننے کی کوشش کی کہ انسانی بقاءکے لئے خطرناک ترین عوامل کونسے ہیں اور تباہی کو ٹالنے کے لئے ہم کیا کرسکتے ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2003ءمیں سارس وائرس نے دنیا کے سات میں سے چھ براعظموں کو نشانہ بنایا اور ایک اندازے کے مطابق 8ہزارسے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے، جن میں سے 750 لقمہ اجل بن گئے. اس کے بعد ایبولاوائرس کا خوفناک حملہ ہوا اور ایک اندازے کے مطابق افریقہ میں اس وائرس سے 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے. عالمی وبائی بیماریوں کی طرح ایٹمی جنگ بھی دنیا کی سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے. 1980ءکی دہائی میں ہی ممتاز سائنسدان کارل سیگن نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی جنگ ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ پوری دنیا کے لئے تباہ کن ہوگا. ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں ا نسانوں کی لاکھوں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوسکتی ہیں جبکہ راکھ اور دھویں کی دبیز تہہ ایک طویل عرصے کے لئے زمین کو سورج کی روشنی سے محروم کرسکتی ہے. کرہ ارض کئی دہائیوں تک سورج کی شعاﺅں سے محروم ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں زندہ بچ جانے والے انسان اور حیوانات بھی لقمہ اجل بن جائیں گے.

 تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماﺅں کو بھرپور کوشش کرنا ہوگی کہ بین الاقوامی سطح پر پھیلنے والی وباﺅں کے تدارک کے لئے تمام ممالک مل کر کوشش کریں. جیو انجینئرنگ تحقیق پر عالمی برادری کو توجہ دینا ہوگی تاکہ انسانی معاشرے کو محفوظ بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کی مدد لی جاسکے. اسی طرح تمام ممالک کو مل کر انسانیت کی بقاءکے لئے ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جس میں عالمی وبائی بیماریوں کا تدارک، شدید ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کے اقدامات بنیادی ترین عناصر ہوں.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top