ترکی میں داعش جنگجوؤں نے شکلیں تبدیل کرنے اور سکیورٹی اداروں کی آنکھوں سے محفوظ رہنے کیلئے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

انقرہ(قدرت روزنامہ05فروری2017) ترکی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش ) کے جنگجوؤں نے اپنی صورتوں کو تبدیل کرنے اور سکیورٹی اداروں کی آنکھوں سے محفوظ رہنے کیلئے نیا طریقہ ڈھونڈ لیا، اس کے تحت تنظیم کے جنگجو ترکی میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کے اداروں سے رجوع کرتے ہیں جو ملک بھر میں بڑی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں.غیر ملکی میڈیا کے مطابق سفاکیت اور دہشت گردی کے سبب دہشتگرد تنظیم داعش کے جنگجوں نے اپنی صورتوں کو تبدیل کرنے اور سکیورٹی اداروں کی آنکھوں سے محفوظ رہنے کے لیے ایک نئے طریقے کا سہارا لیا ہے.
اس کے تحت تنظیم کے جنگجو ترکی میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کے اداروں سے رجوع کرتے ہیں جو ملک بھر میں بڑی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں.اس طریقہ کار کا انکشاف کچھ عرصہ قبل ترک سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں داعش کے دو جنگجوں کی گرفتاری کے بعد ہوا جو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے. شام سے سرحد عبور کر کے ترکی آنے والے ان دونوں افراد کا مقصد ہیئر ٹرانسپلانٹ کرانا تھا تاکہ اپنی صورت اور حلیے کو تبدیل کر کے سکیورٹی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں.برطانوی اخبار "دی سن" کے مطابق گرفتار ہونے والے دونوں افراد ذولحجرات سیدنی اور عدنان ستکویک کے پاس جرمنی کی شہریت ہے. اپریل 2015 میں دونوں افراد نے شام میں لڑنے کے لیے سفر کیا تھا جس کے بعد انٹرپول نے دونوں افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے.ترکی کے میڈیا کے مطابق دونوں افراد نے انقرہ میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا تھا. ترکی کی پولیس نے ان پر ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کا الزام عائد کیا ہے. تاہم دونوں افراد نے خود پر لگائے جانے والے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے. ان کا کہنا ہے کہ وہ داعش تنظیم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور تنظیم کا نام صرف میڈیا کے ذریعے علم میں آیا.پولیس کے سامنے دیے گئے بیان میں دونوں افراد کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو مدد پیش کرنے کے واسطے شام گئے تھے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top