دوسرے یورپی ممالک کی دیکھا دیکھی اب ڈنمارک نے بھی مسلم خواتین کے خلاف ایسا اقدام اٹھانے کی تیاری کر لی ہے کہ وہاں مقیم مسلمان شدید تشویش میں مبتلا

کوپن ہیگن(قدرت روزنامہ04فروری2017) دوسرے یورپی ممالک کی دیکھا دیکھی اب ڈنمارک نے بھی مسلم خواتین کے خلاف ایسا اقدام اٹھانے کی تیاری کر لی ہے کہ وہاں مقیم مسلمان شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے شہر آرہس (Aarhus)کے حکام کی طرف سے مسلم خواتین کے لیے الگ سوئمنگ سیشنزکے خاتمے کا مطالبہ سامنے آیا جس پر سٹی کونسل میں ووٹنگ کروائی گئی، جس میں مسلم خواتین کے خلاف اس پابندی کا بل منظور کر لیا گیا.

اس بل میں کہا گیا ہے کہ ’شہر میں موجود سوئمنگ پولز میں مسلمان خواتین کے لیے جو الگ سیشن رکھے جاتے ہیں وہ ختم کیے جائیں اورمسلم خواتین بھی مردوں کے ساتھ ہی مخلوط سوئمنگ کریں.“

 سٹی کونسل نے اس پابندی کی تجویز میں مزید کہا ہے کہ ”بچوں اور بالغ مردوخواتین کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ مخلوط پیراکی بالکل فطری فعل ہے اور اس سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں.مردوخواتین کے لیے پیراکی کے الگ سیشن رکھنے سے معاشرے میں ہم آہنگی نہیں لائی جا سکتی.“دوسری طرف ڈینش انسٹیٹیوٹ فار ہیومن رائٹس نے سٹی کونسل کے اس اقدام کے خلاف ڈنمارک کے نسلی امتیاز کے خلاف کام کرنے والے ادارے Anti-Discrimination Boardمیں شکایت داخل کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے. انسٹیٹیوٹ کی ترجمان ماریہ وینٹیگوڈ کا کہنا ہے کہ ”اس پابندی سے مسلمان خواتین ذہنی دباﺅ کا شکار ہو جائیں گی. شہر میں موجود سوئمنگ پولز پر پیراکی کے لیے آنے والی خواتین میں واضح اکثریت خواتین کی ہے. اگر یہ پابندی عائد کر دی گئی تو یہ خواتین پیراکی کے لیے ہر گز نہیں آئیں گی جس سے معاشرے میں ہم آہنگی لانے میں مزید دشواری پیش آئے گی کیونکہ یہ خواتین جب سوئمنگ کے لیے آتی ہے تو کئی معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں.“
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top