بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیل،قیدیوں کی نگرانی پر مامور امریکی گارڈ نے اپنے ماضی سے توبہ کی اور دین اسلام قبول کر لیا

واشنگٹن (قدرت روزنامہ03فروري2017)انسانی حقوق کا چیمپئین کہلانے والے امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر قانون اور انصاف کی یوں دھجیاں اڑائی ہیں کہ جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی. بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیل اس لاقانونیت کی بدترین مثال ہے، جہاں دہشت گرد قرار دئیے گئے سینکڑوں مسلمانوں کو قید کر کے تمام انسانی اور قانونی حقوق سے محروم کر دیا گیا.

امریکیوں نے ان قیدیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے مگر ان کا حوصلہ نہ توڑ سکے. ان قیدیوں کی نگرانی پر مامور ایک امریکی گارڈ ان کے حوصلے اور ہمت سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنے ماضی سے توبہ کی اور دین اسلام قبول کر لیا. دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق جب 2003ءکے موسم گرما میں 19 سالہ نوجوان ٹیری ہولڈ بروکس گوانتاناموبے پہنچا تو وہ مذہب اور خدا سے مکمل طور پر لاتعلق تھا. جب وہ چند ماہ بعد کیوبا سے روانہ ہورہا تھا تو اس کی دنیا ہی بدل چکی تھی. اس نے اسلام قبول کر لیا تھا جس پر اس کے فوجی افسران سخت برہم تھے لیکن اس کے قبول اسلام کے بعد وہاں قید مسلمان افراد کی اس سے گہری دوستی ہوچکی تھی. ہولڈ بروکس کے بازو پر کبھی ایک ٹیٹو بنا ہوا تھا جس کی تحریر اسے شیطان کا پیروکار بتاتی تھی لیکن اب اس کے چہرے پر گھنی داڑھی سجی ہے اور وہ سر پر ہمیشہ ٹوپی پہنتا ہے. اب اس کا نام مصطفی عبداللہ ہے. امریکی ریاست ایریزونا میں غیر مسلم والدین کے ہاں جنم لینے والا ہولڈ بروکس اپنے والدین کے درمیاں علیحدگی کے بعد در،در کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور آوارہ گردی اس کا معمول بن گیا. جب وہ جوان ہوا تو امریکی فوج میں بھرتی ہوگیا اور جب 253 ملٹری پولیس کمپنی میں فرائض انجام دے رہا تھا تو اسے گوانتاناموبے جیل میں گارڈ کی ڈیوٹی سرانجام دینے کے لئے بھیجا گیا.

مصطفی عبداللہ نے بتایا کہ جب اسے گوانتاناموبے بھیجنے سے پہلے دو ہفتے کی تربیت دی گئی تو انسٹرکٹر انہیں بتاتے تھے کہ گوانتاناموبے جیل میں قید مسلمان قیدی دنیا کی بدترین مخلوق ہیں. وہ ان قیدیوں کو وحشی درندوں کے طور پر پیش کرتے تھے جو امریکیوں کے خون کے پیاسے تھے. ان کا کہنا ہے کہ گوانتاناموبے پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ حقیقت وہ نہیں تھی جو انہیں بتائی گئی تھی. انہوں نے پہلے دن سے ہی سوالات اٹھانے شروع کردئیے. ایک 16 سالہ لڑکے کو قید کی بدترین صعوبتیں برداشت کرتے دیکھا تو سوچا”یہ تو محض 16 سال کا بچہ ہے جس نے شاید کبھی سمندر نہیں دیکھا ہوگا، اور یہ بھی نہیں جانتا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کیا ہے. اس بیچارے کو بھلا کیا معلوم ہوگا، اور آخر اس کا قصور کیا ہوگا؟“ قیدیوں کے ساتھ اس کے حسن سلوک کی وجہ سے وہ اسے ”اچھا محافظ “کہنے لگے تھے، جس پر اس کے ساتھی گارڈ خاصے نالاں تھے. ایک دن اس کے ساتھی گارڈز نے اسے گھیر لیا اور کہنے لگے ”ہولڈ بروکس آج ہم تمہیں اتنا پیٹیں گے کہ تمہاری کھوپڑی سے طالبان کی سوچ نکال باہر کریں گے.“ اس کے بعد تمام گارڈز نے مل کر اس کی پٹائی کی، اور بعد میں بھی ایسا کئی بار ہوا.

قیدیوں پر بے پناہ ظلم کے باوجود ان کے عظیم حوصلے نے اسے بہت متاثر کیا. وہ کہتے ہیں ”گوانتاناموبے پہنچنے سے قبل مجھے اسلام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا. جب میں نے قیدیوں کے ساتھ سیاست اور اخلاقیات کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو مجھے ان کے مذہب میں بہت دلچسپی محسوس ہوئی. میں نے روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ اسلام کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے وقف کردیا. چھ ماہ بعد میرا دل اسلام کے نور سے منور ہوچکا تھا اور میں نے 29 دسمبر 2003ءکے دن الرشیدی نامی قیدی کی موجودگی میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نام لیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا. اس کے بعد میں نے شراب نوشی ترک کردی اور موسیقی سے بھی توبہ کرلی. میرے لئے اپنے ساتھیوں کی نظروں سے بچ کر روزانہ پانچ وقت نماز کی ادائیگی مشکل تھی. میں اکثر واش روم جانے کا کہہ کر نماز پڑھنے کے لئے کسی الگ تھلگ جگہ چلاجایا کرتا تھا. 2004ءکے موسم گرما میں گوانتاناموبے سے میری واپسی ہوئی. فوج نے مجھے ذہنی مریض قرار دے کر نکال دیا تھا، لیکن امریکی فوج سے نکلنا میرے لئے غلامی سے آزادہونے جیسا تھا، البتہ گوانتاناموبے کے ہولناک مناظر کو اپنے ذہن سے نکالنے کے لئے مجھے تین سال تک جدوجہد کرنا پڑی. آج میں باعمل مسلمان ہوں لیکن میرا دردناک بچپن اور گوانتاناموبے کے ہولناک مناظر آج بھی میرا تعاقب کرتے ہیں. “

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top