خواتین بھی اچھی زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے مالدار عربیوں سے شادی کر لیتی ہیں۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی لڑکی شبانہ سلطانہ نے بھی یہی کیا

n5

نئی دلی (قدرت روزنامہ03فروري2017)جس طرح جنوبی ایشیا کے غریب ممالک کے لاکھوں محنت کش روزگارکے حصول کے لئے عرب ممالک کا رخ کرتے ہیں ، اسی طرح ان ممالک کی کچھ خواتین بھی اچھی زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے مالدار عربیوں سے شادی کر لیتی ہیں. بھارت سے تعلق رکھنے والی لڑکی شبانہ سلطانہ نے بھی یہی کیا، لیکن اس کا انجام ظاہر کرتا ہے کہ ایسے فیصلے سے قبل خواتین کو اپنے مستقبل کے بارے میں ہزار بار سو چ لینا چاہئیے.

 ویب سائٹ دکن کرانیکل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی شبانہ سلطانہ صرف 18 سال کی تھی جب اس کی شادی سعودی عرب کے ایک شیخ سے ہوئی. شبانہ کی یہ پہلی شادی تھی مگر اس کا عرب خاوند 31 ویں دلہن کو بیاہنے آیا تھا. جب اس کی شادی ہوئی تو عرب شیخ کی عمر 70 سال تھی. گزشتہ 20 سال کے دوران عرب شیخ نے اسے بھارت میں ہی رکھا اور وقتاً فوقتاً اس سے ملنے آتا رہا. اس نے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو جنم دیا. دو سال قبل اس کا خاوند پہلی بار اسے سعودی عرب لے کر گیا لیکن جب گزشتہ سال وہ بہت بیمار ہوگئی تو واپس بھارت واپس بھیج دیا. وہ اپنے دو بچوں کو تو ساتھ لے آئی لیکن ایک بیٹی اب بھی عرب شیخ کے پاس ہے. اسے اپنی بیٹی سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی.
 شبانہ کی بڑی بہن بھی ایک عرب شیخ کی بیوی تھی اور سعودی دارالحکومت میں مقیم تھی. اگرچہ شبانہ ایک 70 سالہ شخص سے شادی کرنے پر تیار نہیں تھی مگر اس کی بڑی بہن نے اسے سمجھایا کہ وہ شادی کرلے گی تو شاہانہ زندگی گزارے گی. بہن کے دباﺅ پر بالآخر وہ اس شادی پر تیار ہوگئی.

مارچ 1996ءمیں بھارت میں ہی شادی ہوئی. عرب شیخ20 دن تک اس کے ساتھ رہا اور پھر واپس سعودی عرب چلا گیا. اس کے بعد شبانہ حیدر آباد میں ہی والدین کے ساتھ مقیم رہی اور اگلے20 سال کے دوران سعودی شیخ تین بار اس سے ملنے آیا. شبانہ کے ہاں دو بیٹیاں ظہورہ علی اور عروج علی پیدا ہوئیں جبکہ ایک بیٹا الصبیہی عبدالرحمان پیدا ہوا. مئی 2015ءمیں شیخ شبانہ اور تینوں بچوں کو سعودی عرب لے کر گیا. شبانہ کا کہنا ہے کہ اسے ایک چھوٹے سے گھر میں قیدیوں کی طرح رکھا گیا. اس کا خاوند تین دن میں ایک بار اس کے پاس آتا تھا. وہ آتے ہی بچوں کو دوسرے کمرے میں بند کرکے شبانہ کے پاس آتا اور ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے بعد واپس چلا جاتا تھا. شبانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران اسے پہلی بار اپنے خاوند کی دیگر شادیوں کے بارے میں معلوم ہوا، اور اس کے متعدد بچوں سے ملاقات بھی ہوئی. ان کی عمریں 25 سے 60 سال کے درمیان تھیں. اسے انہی سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے خاوند کی 31 ویں بیوی تھی.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top