بے شمار نقصانات کے باوجود فاسٹ فوڈز آج کل مرغوب ترین غذاﺅں میں شمارہوتے ہیں

نیویارک(قدرت روزنامہ02فروري2017)بے شمار نقصانات کے باوجود فاسٹ فوڈز آج کل مرغوب ترین غذاﺅں میں شمارہوتے ہیں مگر سائنسدان اپنی درجنوں تحقیقات میں ان کے انتہائی مضرصحت اثرات کے متعلق بتا چکے ہیں. اس پر مستزاد یہ کہ اب سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے فاسٹ فوڈز کی پیکنگ پر تحقیق کرکے اس کے بھی انتہائی خطرناک نقصانات کا انکشاف کر دیا ہے.

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ ”فاسٹ فوڈز کی پیکنگ میں خطرناک زہریلے عناصر شامل ہوتے ہیں جنہیں پولی فلوروایلکائل (Polyfluoroalkyl)کہا جاتا ہے.یہ زہریلے مادے لوگوں کی افزائش نسل کی صلاحیت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کھانے والوں میں کینسر کا باعث بھی بنتے ہیں.“

 امریکی ریاست نیواڈا کے تحقیقاتی ادارے سائلنٹ سپرنگ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے امریکہ بھر کے 27فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کے 400سے زائد پیپر ریپر، کپ اور کنٹینرز ٹیسٹ کیے جن کے نتائج میں معلوم ہوا کہ پیکنگ کے اس مواد میں لگ بھگ نصف میں پولی فلوروایلکائل عناصر موجود تھے. اکثر میں Perfluorooctanoicنامی تیزاب بھی موجود تھا. تحقیقاتی ٹیم کی رکن لاﺅرل سکائیڈر کا کہنا تھا کہ ”آج ہر تین میں سے ایک بچہ روزانہ فاسٹ فوڈز کھاتا ہے جس سے ان کے افزائش نسل کی صلاحیت سے محروم ہونے اور کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے. یہ خطرناک کیمیکلز اس کے علاوہ بھی بے شمار طبی مسائل کی وجہ بن رہے ہیں.ان سے بچوں کے متاثر ہونے کے امکانات بڑوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں.“
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top