سکاٹ لینڈ میں ایک لڑکی کو سرمیں درد رہنے لگا۔ وہ کئی ڈاکٹروں کے پاس گئی مگر وہ اسے دردشقیقہ کی دوا دے کر روانہ کر دیتے

ایڈنبرا(قدرت روزنامہ02فروري2017)سکاٹ لینڈ میں ایک لڑکی کو سرمیں درد رہنے لگا. وہ کئی ڈاکٹروں کے پاس گئی مگر وہ اسے دردشقیقہ کی دوا دے کر روانہ کر دیتے.

بالآخر لڑکی موت کے منہ میں چلی گئی اور اس کے پوسٹ مارٹم میں ایسا انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر سر پکڑ کر بیٹھ گئے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ایڈنبرا کی 24سالہ سٹیفنی ڈکسن 9ماہ تک شدید سردرد میں مبتلا رہی. اس کی گردن میں بھی درد رہتا اور سر بھی چکراتا رہتا تھا. وہ علاج کے لیے ان نو ماہ میں 14ڈاکٹروں کے پاس گئی لیکن سب نے اسے ذہنی پریشانی کے باعث ہونے والے سردرد کی دوا دے کر رخصت کر دیا. آخری بار وہ ایڈنبرا کے اے اینڈ ای ہسپتال گئی. وہاں ڈاکٹروں نے اسے ڈرپ لگا دی اور اگلی صبح گھر بھیج دیا. اس وہ اپنے کمرے میں سوئی اور صبح اس کے گھروالوں کو اس کی لاش ملی.
رپورٹ کے مطابق اس کی موت کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا اور تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ دراصل اس کے دماغ میں ٹیومر تھا جس کے باعث اسے درد رہتا تھا لیکن کوئی ایک ڈاکٹر بھی اس کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں کر سکا. پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ”سٹیفنی کا ٹیومر اتنا خطرناک نہیں تھا. اگر اس کی بروقت تشخیص ہو جاتی تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی.“ سٹیفنی کی دوست 27سالہ لورا ایبرڈور کا کہنا تھا کہ ”سٹیفنی کے مرض کی تشخیص نہ ہونے کے باعث ہمیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہونا پڑا. میں باقی لڑکیوں کو نصیحت کرتی ہوں کہ اگر انہیں ایسا عارضہ لاحق ہو تو اسے سنجیدگی کے ساتھ لیں. جب سٹیفنی نے سردرد کی شکایت کرنی شروع کی تو میں نے بھی اسے سنجیدہ نہیں لیا. میرے خیال میں جب ہم نوجوان ہوتے ہیں تو ہم خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں.یہی وجہ ہے کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سٹیفنی ایسی خطرناک بیماری میں بھی مبتلا ہو سکتی ہے.“
n6
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top