بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سینکڑوں بچے صبح سویرے زیاد مقدار میں لیچی کھاجان کی بازی ہار گئے

نیو یارک(قدرت روزنامہ02فروري2017)بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سینکڑوں بچے صبح سویرے زیاد مقدار میں لیچی کھاجان کی بازی ہار گئے ،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی اموات کی وجہ لیچی میں موجود کیمیکل ہے .بھارتی ریاست بہار کے ضلع مظفر پور میں گزشتہ دو دہائیوں میں سینکڑوں بچے لیچی کھا کر موت کے منہ میں چلے گئے ،مقامی لوگ اس بیماری کو ”چمکی“کہتے ہیں او ر یہ ہر سال مئی جون میں پھیلتی ہے اور بہت سے بچوں کی جان لے لیتی ہے .

2014 میں 390 بچوں کو اس بیماری کی وجہ سے دو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا جن میں سے 122 کی موت ہو گئی تھی.بھارت اور امریکہ کے سائنسدانوں کی مشترکہ کوششوں سے پتہ چلا ہے کہ خالی پیٹ زیادہ لیچی کھانے کی وجہ سے یہ بیماری ہوتی ہے.

 تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی یہ تحقیق معروف سائنس میگزین لینسیٹ گلوبل میں شائع ہوئی جس میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیچی میں ’ہائپو گلائیسین اے‘ نامی زہریلا کیمیکل پایا جاتا ہے جو بچوں کے اموات کا سبب بنا .ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے زیادہ تر بچوں کے خون اور پیشاب کی جانچ سے پتہ چلا کہ ان میں ان کیمیائی عناصر کی مقدار موجود تھی.زیادہ تر بچوں نے شام کا کھانا نہیں کھایا تھا اور صبح زیادہ مقدار میں لیچی کھائی تھی. ایسی صورت میں ان عناصر کا اثر زیادہ مہلک ہوتا ہے.بچوں میں غذائی قلت اور پہلے سے بیمار ہونے کی وجہ بھی زیادہ لیچی کھانے پر اس بیماری کا خطرہ بڑھا دیتی ہے.ڈاکٹروں نے علاقے کے بچوں کو محدود مقدار میں لیچی کھانے اور اس سے پہلے متوازن غذا لینے کا مشورہ دیا ہے.مظفر پور کے علاقے میں لیچی کی پیداوار بہت زیادہ ہے اور یہاں سے دنیا بھر کے بازاروں میں لیچی بھیجی جاتی ہے.بیماری کی زد میں آنے والے بچوں کے ماں باپ نے بتایا کہ لیچی کے موسم میں بچے دن کا زیادہ تر وقت لیچی کے باغوں میں گزارتے ہیں اور اس دوران اپنا کھانا پینا بھی بھول جاتے ہیں.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top