دنیا کا کوئی ملک ٹیکنالوجی، دولت اور اسلحے میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود سپر پاور کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں عالمی معیشت پر ڈالر کا راج ختم نہ ہو جائے

تہران (قدرت روزنامہ02فروري2017)دنیا کا کوئی ملک ٹیکنالوجی، دولت اور اسلحے میں امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن اس کے باوجود سپر پاور کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں عالمی معیشت پر ڈالر کا راج ختم نہ ہو جائے، کیونکہ اس صورت میں بغیر کسی جنگ کے ہی امریکا کی دنیا پر حکمرانی کا سورج غروب ہو جائے گا. اب تک تو امریکا کو اس حوالے سے کسی بڑے خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے.

حال ہی میں سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے اعلان کے بعد ایران نے پہلا قدم اٹھایا ہے اور ڈالر کو ترک کرنے کا فیصلہ کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے.

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر ولی اللہ سیف کا کہنا تھا کہ ایران اپنی تمام سرکاری مالیاتی اور فارن ایکسچینج ضروریات کے لئے امریکی ڈالر کی جگہ کوئی دوسری مشترکہ فارن کرنسی استعمال کرے گا یا ایک سے زائد کرنسیوں کا استعمال کرے گا. ان کا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کا آغاز 21 مارچ 2017ءسے شروع ہونے والے نئے مالیاتی سال سے ہوجائے گا.

 ولی اللہ سیف یہ مزید بتایا کہ ایران اپنی سرکاری رپورٹوں میں کسی ایسی کرنسی کے استعمال کو ترجیح دے گا جو نسبتاً زیادہ مستحکم ہو اور بیرونی تجارت میں زیادہ استعمال ہوتی ہو. ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈالر کا ایران کی فارن ایکسچینج میں معمولی حصہ ہے اور یہ کہ ڈالر کی متبادل کرنسی یورپی یونین کے رکن ممالک، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت کے لئے زیادہ موزوں ہوگی.
واضح رہے کہ ایران اس سے پہلے روس، آذربائیجان، ترکی اور عراق سمیت متعدد ممالک کے ساتھ ملکر ڈالر کو ترک کرنے کے معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے. اگرچہ یہ معاہدے طے پاچکے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کا آغاز تاحال نہیں ہوا.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس سال متوقع طور پر تیل کی فروخت سے 41 ارب ڈالر (تقریباً 41 کھرب پاکستانی روپے) کمائے گا. اس اہم مسلم ملک کی جانب سے ڈالر کو چھوڑنے کا فیصلہ صرف خطے پر ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوگا. مزید ممالک کی جانب سے اس مثال کی تقلید کی گئی تو امریکا واقعی بڑے خطرے سے دوچار ہو جائے گا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top