ہم نام وزیر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ21اپریل2017)ایک بادشاہ تھا . اس کے وزیر کا نام حسن تھا .

ایک دن ایک شاعر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور بادشاہ کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا. بادشاہ کو شاعر کی یہ کاوش پسند آئی اور اس نے شاعر کو ایک ہزار اشرفیاں انعام دینے کا اعلان کیا. بادشاہ کے وزیر حسن نے بادشاہ کے حضور سفارش کی کہ بادشاہ سلامت آپ کے خزانے لبا لب بھرے ہوئے ہیں. لہذا محض ایک ہزار اشرفیاں عطا کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے. آپ وہ کام کریں جو آپ کے شایان شان ہو اور آپ کی عزت کو چار چاند لگانے والا ہو. آپ اس شاعر کو کم از کم دس ہزار اشرفیاں انعام میں عطا کریں. شاعر بہت خوش ہوا اور وہ بادشاہ اور اس کے وزیر دونوں کا ممنون ہوا اور زیر بار احسان ہوا کیونکہ دیگر درباریوں نے شاعر کو بتا دیا تھا کہ تمہارے انعام میں گراں قدر اضافہ بادشاہ کے وزیر حسن کی کوششوں کی وجہ سے ہوا ہے. شاعر دونوں کو دعائیں دیتا ہوا خوشی خوشی رخصت ہو گیا. چند برس بیت چکے تھے. شاعر ایک مرتبہ پھر مفلس اور قلاش ہو چکا تھا. اس کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ پھر بادشاہ سلامت کے دربار کا رُخ کیا جائے اور ان کی شان میں قصیدہ پڑھا جائے اور انعام و اکرام کا دوبارہ لطف اٹھایا جائے. اس کے دل میں بادشاہ کی پہلی عطا کی یاد ہنوز باقی تھی. لہذا وہ شاعر دوبارہ بادشاہ کے دربار میں جا پہنچا لیکن اس وقت حسن نامی بادشاہ کا وہ وزیر جس نے شاعر کا انعام دس گنا تک بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ خدا ترس وزیر اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا اور بادشاہ نے ایک نیا وزیر مقرر کیا تھا. اتفاق سے اس کا نام بھی حسن تھا، لیکن مرحوم حسن اور حسن میں زمین آسمان کا فرق تھا. یہ وزیر حسن بد فطرت اور کمینگی کا حامل تھا. شاعر نے بادشاہ کی خدمت میں قصیدہ پیش کیا جو بادشاہ کی شان بیان کرتا تھا. بادشاہ نے حسب معمول اسے ایک ہزار اشرفی انعام میں دینے کا اعلان کیا. کیونکہ بادشاہ کا یہ معمول تھا کہ وہ کسی بھی شاعر کو اپنا کلام پیش کرنے پر ایک ہزار اشرفی انعام میں دیتا تھا. لہذ ابادشاہ نے شاعر کیلئے ایک ہزار اشرفی کے انعام کا اعلان کیا ، لیکن حسن نامی وزیر آڑے آیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت اس قدر انعام اس معمولی سے شاعر کیلئے مناسب نہیں ہے. اس وزیر کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ انعام پانے والے شخص کو اس قدر انتظار کرواتا تھا اور انعام کی ادائیگی میں اس قدر لیت و لعل اور ٹال مٹول کرتا تھا کہ انعام پانے والا تنگ آ جاتا تھا اور بالآخر وہی کچھ غنیمت سمجھ کر قبول کر لیتا تھا جو تھوڑا بہت وزیر اسے پیش کرتا تھا خواہ وہ اس انعام کا عشر عشیر ہی کیوں نہ ہو. لہذا وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں میں خود ہی اس شاعر سے نپٹ لوں . میں اسے بہت کم انعام پر راضی کر لوں گا. اسے اس قدر انعام عطا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ دربار کے اپنے اخراجات بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں. وزیر نے اپنا طریقہ آزمایا اور انعام کی ادائیگی میں لیت و لعل اور ٹال مٹول سے کام لینے لگا اور وقت گزرنے لگا. شاعر اپی مالی پریشانی اور بد حالی کا ذکر کرتا رہا لیکن وزیر نے اپنا وطیرہ جاری رکھا اور ٹال مٹول کرتا رہا. شاعر کے اعصاب جواب دینے لگے تھے. اس نے بالآخر وزیر سے کہا کہ اگر تم مجھے انعام کی رقم نہیں دے سکتے تو کم از کم صاف انکار ہی کر دو تاکہ میری آس ٹوٹ جائے اور انتظار کی گھڑیاں اپنے اختتام کو پہنچ جائیں. یہ سننے کے بعد وزیر نے اس شاعر کو ایک ہزار اشرفیوں کی بجائے محض25اشرفیاں انعام کے طور پر پیش کیں اور شاعر نے انہیں بھاگتے چور کی لنگوٹی تصور کرتے ہوئے بخوشی قبول کیا اور اپنی راہ لی. اگرچہ ان دونوں وزراءکا نام حسن تھا لیکن دونوں کی سیرت میں زمین آسمان کا فرق تھا. ایک بادشاہ کی عطا کو مزید بڑھانے کی سفارش کرتا تھا اور دوسرا بادشاہ کی عطا میں اس قدر کٹوتی کرتا تھا کہ کسی کے پلے کچھ بھی نہ پڑتا تھا. بادشاہ کے اس وزیر اور فرعون کے وزیر ہامان میں کوئی فرق نہ تھا. فرعون اکثر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نصیحت آموز بات چیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا ، لیکن اس کا وزیر اس اثر کو زائل کر کے اسے پھر موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت پر اکساتا تھا. فرعون جب بھی اس سے مشاورت کرتا وہ اسے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے سے روکتے ہوئے کہتا کہ عالیٰ جاہ اب آپ بادشاہ ہیں اور موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد آپ کو ان کی غلامی کرنا پڑے گی. فرعون کی بد قسمتی تھی کہ اسے ہامان جیسا وزیر میسر آیاتھا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top