میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ مقبول ترین سربراہان جنہیں قتل کر دیا گیا۔۔۔

33

اسلام آباد (قدرت روزنامہ16فروری2017)انیسویں‘ بیسویں اور اکیسویں صدی میں عوام میں مقبول ترین لیڈروں اور سربراہان مملکت کو قتل کرنے کیلئے پر اسرار سازشیں کی گئیں‘ ان 10 اہم ترین لیڈروں میں لیاقت علی خان‘ جان ایف کینیڈی‘ اندرا گاندھی‘ر اجیو گاندھی‘ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر‘ شاہ فیصل‘ رفیق حریری‘ بینظیر بھٹو‘ ابراہام لنکن‘ تھامس ڈی آر سی اور مہاتما گاندھی شامل ہیں. ان لیڈروں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی اتنی مربوط اور منظم تھی کہ ان کے قتل کی وارداتوں کو برسوں گزرنے کے باوجود پولیس‘ خفیہ ادارے‘ تجربہ کار تفتیشی افسران اور غیر ملکی اسپیشل ٹیمیں بھی اصل محرکات اور ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں نہ لاسکیں.
آن لائن کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکا میں10 امریکی صدور پر حملے کئے گئے جن میں سے 4 ہلاک ہوئے. بچنے والے صدور میں اینڈریو جیکسن تھیوڈور‘ روز ڈیلٹ‘ ہیری ٹرومین‘ گیرالڈ فورڈ اور رونالڈ ریگن شامل ہیں جبکہ ابراہام لنکن‘ جیمزگار فیلڈ ‘ ولیم جیک اورر جان ایف کینیڈی کو ہلاک کردیا گیا. بھارت میں سب سے پہلے موہن داس گاندھی کو قتل کیا گیا. اس کے بعد دو بھارتی وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو قتل کیا گیا. جنر ل ضیاء الحق کو 17 اگست کو سی130 جہاز میں امریکی سفیر اور دوسرے جرنیلوں سمیت قتل کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی گئی جس کے حوالے سے آج تک پتا نہیں چل سکا. لبنان کے وزیرعظم رفیق الحریری کا قتل بھی ایک بین الاقوامی سازش کا شاخسانہ تھا. بینظیر بھٹو شہید: 1988ء کے انتخابات میں بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں تاہم ان کی حکومت بھی اٹھارہ ماہ بعد ہی اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئی.نوے کے انتخابات میں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن غلام اسحاق خان نے اختلافات کی بناء پر ان کی حکومت کو اٹھارہ اپریل انیس سوترانوے کو تحلیل کردیا.27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے‘ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی. اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پرایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا. اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں‘ اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں.پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بینظیر کی قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی. آصف علی زرداری نے بینظیر کے قتل کی پہلی برسی پر دعویٰ کیا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں البتہ صدر مملکت بن جانے کے بعد قتل کی دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس بارے کچھ نہ بتا سکے. جان ایف کینیڈی: جان ایف کینیڈی صرف 43 سال کی عمر میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے. امریکی تاریخ کے کم عمر ترین صدر ہونے کے علاوہ وہ پہلے رومن کیتھولک تھے جو اس عہدے تک پہنچے. کینیڈی نے 1936ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور دوسری جنگ عظیم سے کچھ عرصہ قبل امریکی بحریہ میں شامل ہو گئے. بحرالکاہل میں فرائض کی انجام دہی کے دوران جاپانیوں نے ان کی کشتی PT 109 کو ڈبو دیا. زخمی ہونے کے باوجود کینیڈی نے اپنی کشتی کے عملے کو بچانے میں بہادرانہ کردار ادا کیا.کانگریس اور سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد‘ 1960ء میں کینیڈی کو صدرِ امریکا منتخب کیا گیا. اپنے سٹائل‘ شخصی کشش اور خطیبانہ اہلیت کی بدولت وہ اندرون و بیرون ملک داد و تحسین کے مستحق ٹھہرے لیکن 1963ء میں ایک قاتل کی گولی نے ان کی زندگی کو المیہ انجام سے دوچار کر دیا. مہاتما گاندھی: برٹش راج کے خلاف ہندوستانی قوم پرست تحریک کے رہنماء موہن داس ’’مہاتما‘‘ گاندھی کو ان کے ملک میں بابائے قوم کے طور پر جانا جاتا ہے. سیاسی اور سماجی ترقی کے حصول کے لئے اہنسا (عدم تشدد) کا نظریہ پیش کرنے پر انہیں بین الاقوامی سطح پر عزت و احترام حاصل ہوا.1888ء میں انگلستان میں قانون کی تعلیم شروع کرنے سے پہلے گاندھی نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کی. جنوبی افریقہ میں کلرک کی ملازمت حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران‘وہاں پائی جانے والی نسلی منافرت اور عصبیت نے انہیں بری طرح متاثر کیا. وہ اپنے ہم وطن ہندوستانیوں کے ترجمان بن گئے اور حکومت کو للکارنے کی پاداش میں سزائے قید کے مستحق ٹھہرائے گئے. 1919ء میں شرانگیزی کے متعلق برطانوی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے وہ ہندوستانی سیاست میں داخل ہوئے. وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ کے طور پر ابھرے اور انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لئے غیرمتشددانہ احتجاج کی پالیسی اپنانے پر زور دیا. دوسری جنگ عظیم کے دوران گوناگوں سختیوں اور دباؤ کا شکار ہونے کے باوجود 1947ء میں گاندھی ایک خودمختار ہندوستانی ریاست حاصل کرنے میں کامیاب رہے. اس کے ایک سال بعد انہیں قتل کر دیا گیا. ابراہم لنکن: امریکی صدر ابراہم لنکن 4 مارچ 1809ء کو پیدا ہوئے.ایک ڈاکیے اور کلرک سے زندگی شروع کر کے امریکا کے سولہویں صدر بنے. اپنی ذاتی محنت سے قانون میں امتحان پاس کرکے وکالت کا پیشہ اختیار کیا. آہستہ آہستہ امریکن کانگرس کے رکن بن گئے. 1856ء میں امریکا کی جمہوری جماعت میں شمولیت اختیار کی. 1860ء میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے. 1864ء میں دوبار صدر منتخب ہوئے‘ 1863ء میں حبشیوں کی آزادی کا اعلان کیا. حبشیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوشش کی. لنکن انسان کو انسان کا غلام ہونا غیر فطری سمجھتے تھے.1865ء میں کسی پاگل نے انہیں اس وقت گولی مار کر قتل کر ڈالا جب وہ فورڈ تھیٹر میں ڈرامہ دیکھ رہے تھے. فیصل بن عبدالعزیز آل سعود: فیصل بن عبدالعزیز آل سعود 1964ء تا 1975ء سعودی عرب کے بادشاہ تھے. وہ اتحاد امت کے عظیم داعی تھے اور اپنے پورے دور حکومت میں اس مقصد کے حصول کی کوششیں کیں.شاہ فیصل کی پاکستان سے مثالی دوستی تھی. انہوں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شاندار مسجد تعمیر کروائی جس کا نام بھی ان کے نام پر فیصل مسجد رکھا گیا.شاہ فیصل نے بادشاہ ہو کر بھی سادہ زندگی گزاری‘ وہ صرف سعودی عرب کے بادشاہ نہ تھے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مشفق باپ اور وفادار دوست تھے اور ان کی حیثیت عالمِ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک چھتری کی تھی.25 مارچ 1975ء کو ان کے بھتیجے نے شاہی دربار میں گولی مار کر انہیں شہید کردیا. شاہ فیصل کے بعد ان کے بھائی خالد بن عبدالعزیز تخت پر بیٹھے. مارٹن لوتھر کنگ جونیئر: مارٹن لوتھر کنگ جونیئر(پیدائش: 15 جنوری 1929ء . 4 اپریل 1968ء) ایک امریکی پادری‘ حقوق انسانی کے علمبردار اور افریقی امریکی شہری حقوق کی مہم کے اہم رہنما تھے. آپ نے امریکا میں یکساں شہری حقوق کے لیے زبردست مہم چلائی.مارٹن لوتھر نے 1955ء کے منٹگمری بس مقاطعہ کی قیادت کی اور 1957ء میں جنوبی عیسائی قیادت اجلاس کے قیام میں مدد دی اور اس کے پہلے صدر بنے. کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963ء میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا‘جہاں کنگ نے اپنی شہرہ آفاق’’میرا ایک خواب ہے‘‘تقریر کی. انہوں نے شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین کی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کی.1964ء میں نسلی تفریق اور امتیاز کے خلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور دیگر پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا. مارٹن لوتھرکنگ اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے. 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے مارٹن لوتھرکنگ نے غربت کے خاتمے اور جنگ ویتنام کی مخالفت کے لیے کوششیں کی اور دونوں کے حوالے سے مذہبی نقطہ نظر سامنے لائے. 4 اپریل 1968ء کو میمفس‘ ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کر دیا گیا. اندراگاندھی: بھارتی سیاست دان پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی اندراگاندھی الہٰ آباد میں پیدا ہوئیں. گیارہ برس کی عمر میں سیاست میں حصہ لینا شروع کیا. انگلستان میں قیام کے دوران میں اور بعد ازاں ہندوستان واپس آکر بھی طلبا کی تحریکوں میں سرگرم حصہ لیتی رہیں. تحریک آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں تیرہ ماہ کے لیے جیل بھیج دی گئیں. 1942ء میں ایک پارسی نوجوان فیروز گاندھی سے شادی کی. اسی زمانے میں ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک چلی. جس میں حصہ لینے پر وہ اوران کے خاوند قید ہوگئے. لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئیں. 1967ء کے انتخابات میں کانگرس کی فتح کے بعد وزیراعظم بنیں.1971 کے انتخابات کے بعد تیسری مرتبہ وزیراعظم چنی گئیں. سکھوں کے خلاف انھوں نے فوجی آپریشن کا آغاز کیا اور گولڈن ٹمپل پر فوجی حملے کے بعد سکھوں میں ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا. 1984 ء میں دو سکھ محافظوں نے گولی مار کر ان کو قتل کردیا. ان کے بیٹے راجیو گاندھی بعد میں ہندوستان کے وزیراعظم رہے جبکہ ان کی بہو سونیا گاندھی ان دنوں انڈین نیشنل کانگرس کی صدر ہیں. لیاقت علی خان: لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے. آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی. 1923ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے. 1936ء میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے. آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے.16 اکتوبر 1951ء کی شام کمیٹی باغ راولپنڈی میں ایک جلسہ عام کے دوران ان کو گولی مار دی گئی. لیا قت علی خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی روشنی میں اس قتل کو ایک انفرادی جرم قرار دینا مشکل ہے. وزیر اعظم کے جلسے میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پولیس تو موجود تھے مگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ‘ آئی جی پولیس قربان علی خان اور ڈی آئی جی‘ سی آئی ڈی انور علی غائب تھے. درحقیقت جلسہ گاہ میں فرائضِ منصبی پر مامور پولیس کا اعلیٰ ترین عہدیدار راولپنڈی کا ایس پی نجف خان تھا. پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل یوسف خٹک پنڈی میں تھے مگر جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھے. راجیو گاندھی: راجیو گاندھی بھارت کے چوتھے وزیراعظم تھے. وہ جواہر لعل نہرو کے نواسے اور اندرا گاندھی کے بیٹے تھے.راجیو گاندھی 20 اگست 1944ء کو ممبئی میں پیداہوئے. دون اسکول دہرادون سے ابتدائی تعلم حاصل کی اور 1960ء میں اعلی تعلیم کیلئے برطانیہ کا سفرکیا. 1963ء میں انہوں نے مکینیکل انجینئرنگ کیلئے ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں داخل ہوئے.یہاں سونیا میانو ایک اطالوی سے ملاقات ہوئی جو کیمبرج کے تدریس زبان کے اسکول میں زیر تعلیم تھیں اور 1965ء میں سونیا میانو سے شادی کی.نومبر1989 ء پارلیمنٹ میں حزب مخالف کے لیڈر چنے گئے.21مئی1991ء سری پیرومبدور( تامل ناڈو) میں کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے اور ان کے قاتل کا بھی آج تک پتانہیں چلایا جا سکا. رفیق الحریری: رفیق الحریری نومبر 1944ء کو لبنان میں پیدا ہوئے. رفیق الحریری بزنس مین گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اوروہ پہلی بار 1992ء سے 1998ء تک لبنان کے وزیر اعظم رہے.2000ء میں دوبارہ منتخب ہوئے اور اکتوبر 2004ء تک وزیراعظم رہے جب تک انہوں نے ا ستعفیٰ نہیں دے دیا. 14فروری 2005ء کو ان کو لبنان میں ایک دھماکے میں قتل کر دیا گیا.ان کے قتل کی سازش کو ابھی تک بے نقاب نہیں کیا جا سکا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top