میں نے کرکٹر بننے کے لیے محنت کی، رنز بھی اچھے بنائے ۔دنیا میں ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ15فروری2017)میں نے کرکٹر بننے کے لیے محنت کی، رنز بھی اچھے بنائے .دنیا میں ایک وقت ایسا بھی آ گیا کہ لوگ کہنے لگے سعید انور سب سے اچھا کھلاڑی ہے لیکن رات کو کروٹیں شروع ہوگئیںیوںغرض دنیا حاصل کرکے اس دل کو چین نہ ملا مولانا طارق جمیل صاحب ایک جماعت کے ساتھ میرے گھر آئے.

انہوں نے اپنے مخصوص خوبصورت انداز سے تھوڑی سی باتیں ارشاد فرمائیں ’’تم چاہے جتنی سینچریاں بنالو،جتنے مرضی رنز سکور کرلو لیکن یہ جو ہے نا دل کا خانہ، یہ ہمیشہ خالی رہے گا. اس میں کبھی چین سکون نہیں آ سکتا. ہمیشہ تڑپتے ہی رہوگے‘‘.یہ دعوت و تبلیغ والے کام میں آئیگا. انہوں نے تھوڑی سی بات کی کہ بھئی اس طرح کرو، اس طرح کرو ،تین دن لگائو دین سیکھو. میری زندگی، انضمام کی زندگی، ثقلین کی زندگی، شاہد آفریدی کی ، مشتاق کی، یونس خان کی، معین کی زندگی، سب کی زندگیاں اس طرح تباہ و برباد تھیں. نیند کی گولیاں کھا کر سوتے تھے. راتوںکو دیر دیر تک فلمیں دیکھتے تھے، گانے سننا، تڑپتے رہنا، کروٹیں بدلنا، نیند نہ آنا، صبح آٹھ آٹھ بجے تک سونا ،یہ کیا بات ہے؟ چار گاڑیاں گھر میں کھڑی ہیں. بیوی کو ہر وہ چیز، جو وہ منہ سے نکالتی ہے، دیتے ہیں پھر بھی وہ ناخوش ہے پھر بھی وہ ناراض ہے پھر بھی جھگڑتی رہتی ہے پھر بھی ذلیل کرتی رہتی ہے، بات صحیح نہیں کرتی، عزت نہیں کرتی میں کیا دوں کہ عزت کرنی شروع کردے. میرے اور اس کے حالات صحیح ہو جائیں ماں باپ سے تعلقات کیسے بنیں؟ ماں باپ سے تعلقات خراب کیوں ہو رہے ہیں؟ رشتے داروں سے تعلقات خراب کیوں ہو رہے ہیں؟ کیاہوگیا کہ کاروبار میں بھی دھوکہ ہو رہا ہے. ہر آدمی دھوکہ کرلیتا ہے. کیسے زندگی گزاریں کہ چین و سکون آ جائے؟ معاملات صحیح ہو جائیں لوگ ہم سے سچی محبت کرنی شروع کریں. حالت یہ تھی کہ لوگ ایک دن سو رنز پر تعریف کر رہے ہوتے ہیں تو دوسرے دن سڑک پر تصویروں کو جوتیاں مار رہے ہوتے ہیں اور گالیاں دے رہے ہوتے ہیں ہم کیا کریں؟ کہ یہ روز ہمیں سلام کریں ہم بھی ان کو سلام کریں محبت کریں ، عزت کریں کیسے یہ نظام چلے .ہمارے اندر بھی چین و سکون آئے توبات ہو. جس دن مجھے پتہ چلا کہ اللہ نے چین و سکون یہاں نہیں رکھا، تین دن لگا کر دیکھے ،یہ لوگ بڑی محبت کرتے ہیں، ہم گشت پر گئے تو ایک بڑے پیارے بھائی تھے ،بڑی پیاری پیاری باتیں کیں، اصل علم یہ ہے کہ ابھی اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے، میرے اوپر، اب فجر کی نماز ہوئی دو فرض کا حکم ہے میں نے چار پڑھ لئے تو یہ اللہ کو منظور نہیں ہے. یہ تو منہ پر مار دیئے جائیں گے، قیامت کے دن، اس وقت اللہ کا حکم کیا ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے. آج 95 فیصد لوگ نماز نہیں پڑھ رہے ہم اپنی تجارتیں دس دس گھنٹے کرتے رہیں اور ساری دنیا جہنم کی طرف جا رہی ہے، کہاں جا رہے ہیں، ساڑھے تین لاکھ انسان روزانہ مر رہے ہیں یہ جہنم میں جا رہے ہیں ان کا کیا ہوگا؟ میری گاڑی کے نیچے دس سال قبل ایک بلی کا بچہ آ گیا وہ سڑک پر تڑپ رہا تھا تو میں بڑے عرصے بعد زندگی میں پہلی دفعہ رویا تھا کہ یا اللہ یہ تڑپ رہا ہے اس کی جگہ کوئی انسان کا بچہ ہوتا تو میرا کیا حال ہوتا تو کتنے انسان کے بچے جہنم میںجلیں گے کیا ہمارا دل نہیں ہلتا بغیر کلمہ نماز کے جو لوگ دنیا سے جا رہے ہیںمرتے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ والی فکر نصیب فرمائے. آمین

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top