یہ پاکستان کے قیام سے چھ ماہ بعد کا واقعہ ہے

04

(قدرت روزنامہ14-فروری-2017)یہ پاکستان کے قیام سے چھ ماہ بعد کا واقعہ ہے‘ برطانیہ کے ہائی کمشنر قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا ”اگلے مہینے برطانیہ کے شاہ کے بھائی پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں‘ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ ہو گی اور برطانوی حکومت کی خواہش ہے آپ ائر پورٹ پہنچ کران کا استقبال کریں“. قائد اعظم محمد علی جناح مسکرائے اور ہائی کمشنر سے فرمایا ”میں اس کام کیلئے تیار ہوں .

لیکن یہ آپ کوبہت مہنگا پڑے گا“ ہائی کمشنر نے عرض کیا ”کیسے‘ قائداعظم نے فرمایا ”اگر میں برطانوی شاہ کے بھائی کے استقبال کیلئے ائر پورٹ گیا تو جب میرا بھائی لندن جائے گا تو ان کے استقبال کیلئے شاہ کو بھی ائر پورٹ آنا پڑے گا“. ہائی کمشنر یہ جواب سن کر پریشان ہو گیا اور حیرت سے قائداعظم کی طرف دیکھنے لگا. قائد اعظم نے پوچھا ”کیا آپ لوگ اس کیلئے تیار ہیں“ ہائی کمشنر نے شکریہ ادا کیا‘ سلام کیا اور گورنر جنرل ہاﺅس سے رخصت ہوگیا. ایک ماہ بعد شاہ کا بھائی ائر پورٹ پر اترا تو اس کا استقبال کراچی کے ڈپٹی کمشنر نے کیا. قیام پاکستان کے بعد کسی نے قائد اعظم سے پوچھا تھا ”آپ امریکا سے سفارتی تعلقات قائم کریں گے یا برطانیہ سے “ قائداعظم نے فرمایا ”ہم برطانیہ کے ساتھ کمفرٹیبل فیل کریں گے“ پوچھنے والے نے پوچھا ”کیوں“ آپ نے فرمایا ”آپ جس .. شیطان کو جانتے ہیں وہ شیطان ہمیشہ اس شیطان سے بہتر ہوتا ہے جسے آپ نہیں جانتے“. یہ دو واقعات بین الاقوامی طاقتوں کے بارے میں قائداعظم کے وژن کی نمائندگی کرتے ہیں‘ یہ بتاتے ہیں قائداعظم پاکستان کو ایک ایسا ملک دیکھنا چاہتے تھے جس کے دوسرے ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات ہوں اور جو اس شیطان کی طرف کبھی ہاتھ نہ بڑھائے جسے وہ اچھی طرح نہیں جانتا“. امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات 1949ءمیں شروع ہوئے تھے ‘اس وقت کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ اس ملک پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اس کی ساری پالیسیاں واشنگٹن سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ہینڈل کی جائیں گی‘ ہم نے کیا کھانا ہے‘ ہم نے کیا پینا ہے‘ ہمارے سکولوں کا سلیبس کیا ہونا چاہیے‘ اس ملک کو مدارس کی ضرورت ہے یا نہیں‘ ہمارے بجلی‘ گیس اور پانی کے بل کتنے ہونے چاہئیں‘ ہمارے آئین میں کون سی شق ہونی چاہیے اور کون سی شق آئین سے ” ری موو “ کر دینی چاہیے‘ ہم نے کس کو ٹرائل کرنا ہے اور ہمارے قانون اور انصاف کے سسٹم نے کس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھنا‘ کس نے الیکشن لڑنا ہے اور کون .. الیکشن.. سے محروم رہے گا‘ ہمارے انڈیا‘ افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات کیسے ہونے چاہئیں اور حتیٰ کہ ہماری گھڑیاں کب آگے ہوں گی اور کب پیچھے اور ہم نے کتنے ڈیم بنانے ہیں اور کس کس ڈیم کا ہم نے نام تک نہیں لینا اس کا فیصلہ بھی کوئی اور کرے گا. 1949ءمیں کوئی تصور تک نہیں کر سکتا تھا کہ پاکستان کبھی ایسا ملک بن جائے گا جس کی بنیاد تک میں غیر ملکی اثر چلا جائے گا لیکن آج اس ملک میں ایسا ہو رہا ہے.اللہ تعالیٰ کوغلامی سے سخت نفرت ہے‘ اللہ تعالیٰ انسان کو آزاد اور اکیلا پیدا کرتا ہے اور اکیلا ہی اس کی جان قبض کرتا ہے. اس نے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے تھے اور یہ نبی انسانوں کو آزادی کا پیغام دینے کیلئے زمین پر آئے تھے اور انہوں نے انسانوں کو بتایا تھا تم حالات‘ خدشات اور اپنے جیسے لوگوں کی غلامی سے آزاد ہو جاﺅ اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی غلامی قبول کرو‘ ان نبیوں نے انسانوں کی سوچ کو آزاد کرنے کی کوشش کی تھی اور حضرت محمدﷺ کو نبی آخر الزمان اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آزاد کر دیا تھالیکن افسوس آج ان کو ماننے والے نیویارک کی طرف پیٹھ تک نہیں کرتے. ہم امریکن کے سامنے اونچا سانس تک نہیں لیتے. یاد رکھئے ہم جب تک اپنی سوچ کو آزاد نہیں کریں گے‘ ہم اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے اور ہم جب تک غلامی سے انکار نہیں کریں گے ہم اس وقت تک اس طرح گھر اور گھاٹ کے درمیان خوار ہوتے رہیں گے . برا دشمن وہ نہیں ہوتا جو آپ کو مار دے‘برا دشمن وہ ہوتا ہے جو آپ کو زندہ رہنے دے اور نہ ہی مرنے دے اور ہمارے دشمن ہمارے ساتھ یہی کر رہے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top