کھاریاں کے قریب گلیانہ کے قصبے میں ماسی صغرا رہتی ہے

(قدرت روزنامہ14فروری 2017)ڈسٹرکٹ گجرات تحصیل کھاریاں نواحی قصبے گلیانہ کا یہ سچا واقعہ میجر تنویر نے بیان کیا ہے ، وہ بتاتے ہیں . کھاریاں کے قریب گلیانہ کے قصبے میں ماسی صغرا رہتی ہے ، وہ جوانی میں بیوہ ہوگئی ، اس نے بہت مشکل وقت کاٹ کر اپنے دونوں بیٹوں کی پرورش کی .

اس کی شرافت اور نیک نامی کی گواہی ہر شخص کی زبان پر تھی اس نے بچوں کو اس نے غربت لیکن سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اس انداز سے پالا پوسا کہ وہ بڑے ہوکر بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا سوچنے لگے ، شاید گھر کی غربت سے جنگ کرتے اور اپنی ماں کی عمر بھر کی مشقت کو آرام میں بدلنے کے لیے وہ دن رات باہر جانے کا پروگرام بنانے لگے . ماسی صغرا نے اپنے بچوں کو بہت سمجھایا کہ وہ یہاں اکیلی رہ جائے گی اور وہ پاکستان میں رہ کر جتنا کمائیں گے ، وہ سب کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی ہوگا ، لیکن انہیں بخوبی احساس تھا کہ ماں کے پاس اتنی رقم تو ہے نہیں کہ اعلیٰ تعلیم دلوا سکے اور اگر اعلیٰ تعلیم نہیں ہوگی تو اعلیٰ نوکری کون دے گا ؟ بچے ہوش سنبھالتے ہی اپنے ایک جاننے والے کے ذریعے تھوڑی سی زمین بیچ کر دبئی چلے گئے ، ماسی صغرا انہیں روکتی اور واسطے دیتی رہ گئی ، لیکن پھر بچوں کے اچھے مستقبل کی خاطر اسے یہ بار جدائی سہنا پڑا . ماسی صغرا نے اپنی تنہائی کے پیش نظر گاؤں کی ایک اور عورت کو جو اس کی ہم عمر تھی اور بہت غریب دکھیاری تھی ، اسے اپنے ہاں ملازم رکھ لیا ، وہ عورت آجاتی ، گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ دونوں آپس میں باتیں بھی کرتی رہتیں اور یوں احساس تنہائی بھی کم ہوجاتا . اور جب بچے ایک ماہ کی چھٹی پر آجاتے تو لگتا عید اسکے گھر میں اُتر آئی ہے ، وہ اچھی سی بہو لانے کی تیاریوں میں مصروف تھی ، کچھ زیور کی خریداری کر چکی تھی اور آنے والے وقت کا انتظار اس کی آنکھوں میں سجا تھا . وقت کا پہیہ بڑی روانی سے گزرتا چلا جا رہا تھا اس روز کام والی بائی کو کسی اشد ضرورت کے تحت دوسرے گاؤں جانا پڑ گیا . ماسی صغرا گھر میں اکیلی تھی ، لیکن اپنا گاؤں ، اپنے لوگ وہ لوگ جن کے درمیان اس نے جوانی سے اڈھیرعمری تک سفر طے کیا تھا ، ان سے ڈر کیسا ؟ وہ بے فکر ہو کر سو گئی ، لیکن اچانک ایک کھٹکے سے اس کی آنکھ کھل گئی ، اس نے دو سایوں کو اپنے بستر کے قریب آتے دیکھا ، دہشت کے مارے اس کی گھگی بند ہوگئی . وہ باہر برآمدے میں سو رہی تھی ، تنہائی کا عالم اور دو کالے ڈھاٹے باندھے ہاتھ میں اسلحہ لیے ڈاکو ، اس نے چادر میں منہ چھپاتے ہوئے سوچا کہ سوتی بنی رہ تاکہ ڈاکو جو کچھ گھر سے لے جانا چاہتے ہیں لے جائیں ، لیکن ان ڈاکوؤں میں سے ایک سیدھا اسکے بستر کے پاس آیا اور اس کے سر پر بندوق کی نال لگاتے ہوئے خوفناک آواز میں بولا : اُٹھ مائی ، نکال دے جو کچھ تیرے پاس ہے . ماسی صغراکا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا ، لیکن اس نے بہت بہادری اور ہمت سے کہا : تمھیں جو کچھ لینا ہے لے لو . نہیں ایسے نہیں ، ہمارے پاس وقت نہیں کہ صندوقیں کھول کھول کر دیکھتے رہیں ، اُٹھ چل نکال کر دے ، جہاں تونے اپنے بیٹوں کے ڈالر چھپائے ہوئے ہیں ، جتنا سونا ہے نکال دے ، سُنا ہے بڑے لمبے نوٹ کما رہے ہیں باہر تیرے بیٹے .. چل جلدی اُٹھ ، ماسی صغرا کو اس نے دھکا دیتے ہوئے کہا ، اگر تونے ذرا سی بھی آواز نکالی یا لوگوں کو بلایا تو ہم تیرا گلا دبا دیں گے اور تیری لاش اسی صحن میں دفن کر دیں گے . ماسی کانپےہوئی اٹھ گئی اور اپنے سر پر ڈوپٹہ ڈال کر وہیں برآمدے میں کھڑی ہوگئی . چل اندر چل ، ایک ڈاکو نے اس کی کلائی پکڑ کر اندر گھسیٹا . اسے ان دونوں کی آنکھوں میں ناچتی شیطانیت نظر آگئی تھی ، تمام عمر اس نے اپنی عزّت اور آبرو کی حفاظت کی تھی ، اس کی عمر بھر کی شرافت ، دین داری اور نیک نامی تھی کہ کسی نے بیوہ ہوتے ہوئے بھی کبھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھا تھا . ماسی صغرا اپنے کام سے کام رکھنے والی بڑی ، جی دار ، کھری اور سچی عورت تھی . چل چل اند چل ہمیں سامان خود نکال کر دے ، ان کے چہروں کی خباثت نے اسے پیشگی خطرے سے آگاہ کر دیا تھا . میرا بازو چھوڑو ، دیکھو مجھے ہاتھ مت لگانا ، جو کچھ تمھیں چاہیے ، اندر سے لے لو میں شور نہیں مچاؤں گی . وہ چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑی ہوگی اور زیر لب درود شریف اور جتنی بھی آیات اسے یاد تھیں ، پڑھنے لگی ، اس کے کانپتے ہوئے ہونٹ مسلسل ورد کر رہے تھے . یہ کیا منہ میں پڑھ رہی ہے ، چل سیدھی طرح اندر . دوسرے ڈاکو نے اسے ٹھوکا لگاتے ہوئے اس کی بے بسی پر ہنستے ہوئے طنزیہ انداز میں میں کہا. ایہہ وچاری اپنے خدا کو پکار رہی ہے ، دوسرا ڈاکو استہزائیہ انداز میں ہنسا اور بولا . آج ہماری بادشاہی ہے آج تو تیرا خدا بھی تیری مدد کو نہیں آسکتا ، آج تو لاکھ وظیفے کرے ، پکارے ، گڑگڑائے ، آوازیں دے ، وہ مدد کو نہیں پہنچنے والا ، آج ہمارا راج ہے ، ہماراراج . وہ ان کی بے ہودہ گفتگو سے بے نیاز بڑے سے ڈوپٹے کی بکل مارے لگاتا اللّہ کو یادکرتی رہی ، ورد پڑھتی رہی ، آواز بند کر اور اندر چل ، آئی بڑی نیک پارسا ، نہ قبر سے مردے اُٹھ کر آتے ہیں ، نہ آسمان سے خدا اُترا ہے ، اگر خدا آتا ہوتا تو ہم نے اب تک کتنے ڈاکے مارے ہیں ، مارے نہ جاتے . دونوں نے ایک بار پھر اس کا ٹھٹھا اُڑایا اور اسے اندر کی طرف دھکا دیا اور دھکا دیتے ہوئے اندر لے جاننے لگے اور تبھی چھت کی کڑیوں میں سے ایک اینٹ نکلی اور ڈاکو کے سر پر اس انداز سے گری کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا ،دوسرا ساتھی اچانک اس افتادپر اور اپنے ساتھی کے سر کے بہت بری طرح کچلے جانے اور پھٹے ہوئے سر سے بہتے خون کو دیکھ کر بھاگ گیا . ماسی صغرا نے شور مچا دیا ، لوگ اکھٹے ہوگئے ، ڈاکو مرا پڑا تھا ، اس کی آنکھیں ایسی کھلی تھیں ، جیسے اپنی موت اور خدا کی قدرت پر حیران ہو رہی ہوں. اس کے چہرے سے نقاب اُتارا گیا ، وہ ان کے گاؤں کے ماچھی کا بیٹا تھا ، ماچھی گرفتار ہوا تو دوسرے ساتھی کی نشاندہی بھی ہوگئی اور وہ دونوں مجرم عرصہ درازسے مطلوب تھے . یہ سب کیسے ہوا ؟ اینٹ کیسے اس وقت گری جب وہ مجرم خدا کی قدرت کو للکار رہا تھا ؟ لوگوں نے چھت آ کر دیکھی ، کڑیوں والی چھت سے اینٹ کیسے کھسکی ؟ اور کیسے یہ حادثہ ہوا ، جس نے دیکھا ، خدا کی قدرت پر عش عش کرتا چلا گیا. موت سے پہلے وہ مجرم جو کہہ رہا تھا ، آج تیرا خدا بھی یہاں آکر کچھ نہیں کر سکتا ، اور اسی خدا نے سب کچھ کر دکھایا تھا . اس کی لاش عبرت بن گئی تھی ، آج بھی لوگ اس واقعے کو یاد کرتے ہیں تو توبہ کرنے لگتے ہیں . ماسی صغرا کی عزت میں خدا نے اور اضافہ فرما دیا ہے . بے شک وہی عزّت دینے والا ہے اور انسان کی مال وجان ، اور آبرو کا محافظ ہے . اور اس کا فرمان سچ ہے . ترجمعہ : کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا ، زمین اور آسمان ک مخلوقات کا کوئی اس کے سوا خبر گیر کرنے والا نہیں اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا . )..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top