اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد الحرام اور محرم جیسے پاکیزہ الفاظ کے ساتھ ‘حرام’ کا لفظ کیوں آتا ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ14فروری2017)اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد الحرام اور محرم جیسے پاکیزہ الفاظ کے ساتھ ‘حرام’ کا لفظ کیوں آتا ہے، لفظ حرام تو ہمارے نزدیک اچھا نہیں، اسے خانہ کعبہ کیلئے استعمال کرنے سے جھجھک محسوس ہوتی ہے-اصل میں  یہ جھجھک ہماری عربی زبان سے ناواقفیت کے سبب سے ہے. عربی زبان کے وہ الفاظ جو دیگر زبانوں جیسے اردو میں مستعمل ہوگئے ہیں، وہ کئی بار اپنے حقیقی معنی کھو بیٹھتے ہیں یا اپنی ممکنہ وسعت سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر اس کے ساتھ ایسے تصورات جوڑ دیئے جاتے ہیں جو لفظ کی اصل روح کے خلاف ہوتے ہیں. فقہی اعتبار سے چونکہ حرام ہر اس کام کو کہتے ہیں جس سے دین ہمیں روکتا ہو لہٰذا ایسے افعال کے ساتھ ساتھ لفظ حرام سے بھی ایک غیر محسوس ناپسندیدگی ہم سب مسلمانوں کے اذہان میں گھر کرگئی ہے. حرام کے لغوی معنی “روکنے”کے ہیں. حرام مادہ لفظ حرم سے نکلا ہے جس کے ایک معنی ‘مقدس جگہ’ کے بھی ہیں. مسجد الحرام چونکہ مقدس ترین جگہ ہے اور اس میں بہت سی حرمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں یا یوں کہیئے کہ کئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جیسے یہاں جنگ کرنا ممنوع ہے. اسی رعایت سے اسے ‘مسجد الحرام’ یعنی ‘ حرمت والی مسجد’ پکارا جاتا ہے اور اسی بناء پر سال کے چار مہینوں کو اللہ عزوجل نے حرمت والا قرار دیا ہے. اسی طرح حج میں احرام کی حالت میں بھی حاجی پر بہت سی پابندیاں ہوتی ہیں اور اسی لئے اسے ‘احرام’ کہا جاتا ہے-

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top