اخوت کی سنہری مثال

40

اسلام آباد (قدرت روزنامہ13فروری2017)ہجرت مدینہ کاحکم ہوا تو صحابہؓ کاروبار ،گھر بار اور مال مویشی چھوڑ چھاڑکر بے سروسامانی کی حالت میں مدینہ پہنچ گئے. مدینہ میں موجود صحابہؓ کو دو گروپس میں تقسیم کردیا گیا.

ایک گروپ کو انصار اور دوسرے گروپ کو مہاجر کا نام دیا گیا.ہر ایک مہاجر صحابیؓ کو ایک انصارصحابی کا ساتھی بنادیاگیا.مہاجر صحابہؓ میں مکہ کے بڑے مسلمان تاجر عبدالرحمن عوفؓ بھی شامل تھے. جب وہ مدینہ پہنچے تو تن پر پہنے ہوئے کپڑوں کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا.آپؓ کو مدینہ کے سب سے خوشحا ل اور سب سے مالدار صحابی سعد بن ابیؓ کا ساتھی بنایاگیا.ساتھی بنتے ہی سعد بن ابیؓ نے اپنی مکمل دولت ،کاروبار اور جائیداد کا حساب حضرت عبدالرحمنؓ کے سامنے رکھا اور عرض کیا کہ میں آپ کو اپنی دولت، کاروبار اور جائیداد میں پچاس فیصد کا مالک مقرر کرتا ہوں .ان حالات میں یہ بات عبدالرحمن بن عوفؓ کیلئے کسی معجزے سے کم نہیں تھی اور تاریخ اسلام میں شاید یہ پہلا واقعہ تھا کہ کسی مسلمان نے ضرورت مند مسلمان بھائی کو بغیر کسی لالچ ،منافع یا سود کے اپنی آدھی دولت کا حق دار قرار دیدیا ہو.

سعدؓ بن ابی نے صرف اسی بات پر اکتفا نہیں کیااور عبدالرحمن بن عوفؓ سے عرض کیا کہ جائیداد کے علاوہ میرے نکاح میں دو بیویاں بھی ہیں.آپ ان دونوں میں سے ایک کو پسند کرلیں میں اسے طلاق دیدوں گا اور وہ عدت پوری کرنے کے بعدآپ سے نکاح کر لے گی. عبدالرحمن بن عوفؓ نے اخوت ،ایثار اور قربانی کا یہ جذبہ دیکھا تو اپنے جذبات پر قابونہ رکھ سکے اور عرض کیا ’’ میں آپ کی محبت اور ایثار کا بدلہ نہیں دے سکتا .اللہ تعالیٰ آپ کی یہ نیکی قبول کرے لیکن میں آپ کی جائیداد اور ازدواجات نہیں لے سکتا .میری خودداری اس بات کی اجازت نہیں دیتی .آپ صرف مجھے بازار کا راستہ بتادیں جہاں تجارت ہوتی ہے میں کچھ نہ کچھ کاروبار کر لوں گا‘‘اور بعد ازاں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ مدینے کے سب سے بڑے تاجر بن کر اُبھرے.حضرت سعدؒ کی طرح باقی انصار صحابہؓ نے بھی دل کھول کر مہاجرمسلمان بھائیوں کی مدد کی .جس کی وجہ سے مدینہ معاشی طور پر مضبوط ہوا اور اسلام کی پہلی ریاست مدینہ منورہ خوشحال ہو گئی اور اس واقعے نے دنیامیں خوشحال ریاست بنانے کا ایک نیا اصول بھی متعارف کروا دیا کہ اگرمعاشرے کے خوشحال لوگ ضرورت مند لوگوں کو اپنے کاروبار میں حصہ دار مقرر کردیںیااپنی آمدنی کا کچھ حصہ ضرورت مند لوگوں کو کاروبار کرنے کیلئے دے دیں تو اس معاشرے سے غربت ،افلاس اور تنگدستی کے بادل چھٹ جاتے ہیں اوربدوؤں کا معاشرہ بھی رہتی دنیا تک کے لوگوں کیلئے بہترین معاشی پالیسی تشکیل دے سکتاہے . اخوت کے اس جذبے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک ایسا نظام مرتب کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت معاشرے کے ضرورت مند اور بے سہارا لوگوں کی معاشرے کے خوشحال اورمالدار لوگوں کے ذریعے مدد کی جاسکے اور یہ مدد کسی بھی طرح کے لالچ اور سود سے پاک ہو. اس نیک کام کے آغاز کیلئے ڈاکٹر صاحب نے سن 2001میں اخوت کے نام سے ایک ادارہ بنایااور ایک ضرورت مند عورت کوچھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کیلئے دس ہزار روپے دیے.اس عور ت نے ان پیسوں سے سلائی مشین خریدی،لوگوں کے کپڑے سیے،دن رات محنت کی،اسے منافع ہوا اور چھ ماہ کے عرصہ میں اس نے دس ہزار روپے ڈاکٹر امجد ثاقب کو واپس کردیے.ڈاکٹر صاحب نے دس ہزار روپے اپنے پاس نہیں رکھے بلکہ وہ دس ہزار روپے کسی اورکو کاروبار شروع کرنے کیلئے دیدے.اللہ تعالیٰ نے ایثار کے جذبے کے تحت دیے گئے ان دس ہزار روپوں میں اتنی برکت ڈالی کہ وہ دس ہزار روپے آج 33ارب روپے بن چکے ہیں اور وہ 33ارب اب تک 16لاکھ 94ہزار خاندانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں اور یہ رقم مسجد ،مندر ،چرچ اورگردواروں کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے. آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ اخوت دنیا کی واحد تنظیم ہے جو بغیر کسی سود کے ضرورت مند لوگوں کی مدد کررہی ہے.اخوت لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتی ہے اور جب وہ لوگ کامیاب کاروبار کے بعد قرض لوٹاتے ہیں تو انہی لوگوں کو ڈونر بننے کی ترغیب دی جاتی ہے اور سن 2016 میں اخوت نے 16کروڑ روپے صرف ان لوگوں سے ڈونیشن لیے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے قرض حسنہ کے حقدار تھے.اور مجھے یقین ہے کہ ڈونیشن دینے کے بعد یہ لوگ خود کو فقیر سے بادشاہ ضرور محسوس کرتے ہوں گے اور یہ احساس انہیں ڈاکٹر امجد ثاقب نے دلایا ہے. ڈاکٹر صاحب نے اخوت کو صرف قرض حسنہ دینے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اخوت ایجوکیشن سروس ،اخوت کلاتھ بینک ،دیوار اخوت ،اخوت بک بینک ،اخوت فوڈ بینک ،خواجہ سرا سپورٹ پروگرام ،اخوت ہیلتھ سروسزاور اخوت سکول جیسے پراجیکٹس شروع کررکھے ہیں اور ان تما م پراجیکٹس کی بنیاد بھی انصار اور مہاجرین کا فلسفہ ہے اور اسی فلسفے کی بدولت یہ تمام پراجیکٹس کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں.اخوت کی اسی چھتری کے نیچے اب تک 2لاکھ 65ہزار سے زائد مریض فری علاج کرواچکے ہیں.چودہ ہزار سے زائد بچے ان کے اے ای ایس انسٹیٹیوٹ میں داخلہ حاصل کرچکے ہیں .27ہزار سے زائد طالبعلم ٹرینڈ ہو چکے ہیں.150سے زائد سکول کام کر رہے ہیں.400سے زائد خواجہ سرا رجسٹرڈ ہو چکے ہیں.اس کے علاوہ قصور میں اخوت یونیورسٹی کا قیام زور و شور سے جاری ہے جو کہ نومبر 2017میں مکمل ہو جائے گی جو لوگوں کو مفت تعلیم مہیا کرے گی. ڈاکٹر امجد ثاقب نے چودہ سو سال پرانے انصار مہاجر ماڈل کو بنیاد بنا کر اور لاکھوں لوگوں کی مدد کرکے اس دنیا میں بھی جنت کما لی ہے اور آخرت میں بھی اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر نیت صاف ،جذبہ نیک ،ہمت بلنداور نظام مصطفی ہو تو سود کی بنیاد پر بنی ہوئی اکانومی میں بھی سود لیے اور دیے بغیر دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم چلائی جا سکتی ہے اورآ ج تک جن معاشروں اور اداروں نے اپنے نظام کی بنیاد اخوت اور ایثار پر رکھی ہے وہ معاشرے کل بھی خوشحال تھے آج بھی خوشحال ہیں اور کل بھی خوشحال رہیں گے.میری دعا ہے کہ اللہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو اس نیک کام کی تکمیل اور اسے آگے بڑھانے کی ہمت دے اور اخوت کو پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت پہلو اجاگرکرنے کا سبب بنائے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top