قسطنطنیہ کی فتح ہر مسلمان جرنیل کا خواب تھی اور اس کی بنیادی وجہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس کے فاتح کے بارے میں بشارت تھی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ13فروری2017)قسطنطنیہ کی فتح ہر مسلمان جرنیل کا خواب تھی اور اس کی بنیادی وجہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس کے فاتح کے بارے میں بشارت تھی، حدیث شریف میں فتح قسطنطنیہ کی خوشخبری کچھ یوں بیان کی گئی تھی جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ “تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی”.
یہ پندرھویں صدی عیسوی کا دور تھا مسلمان جرنیلوں کی قسطنطنیہ پر ابتک کی جنگی مہمیں کامیاب نہ ہو سکی تھیں جس کی شروعات حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے سے ہوئی تھی اور پھر یک بعد دیگرے ہر صدی میں قسطنطنیہ پر کوئی نہ کوئی حکمران فیصلہ کن حملہ کرتا.
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ طلوع اسلام کے بعد قلیل عرصے میں ہی اسلامی سلطنت کی سرحدیں دور دراز ممالک تک پھیل گئی تھیں لیکن اس کے باوجود آٹھ صدیوں تک بازنطینی سلطنت کا مرکز یعنی قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے میں نہ آ سکا.
مشہور انگریز مورخ لین پول کہتا ہے کہ ’’ترکوں کے دل میں اس عظیم شہر پر قبضہ کرنے کی خواہش اس وقت سے چٹکیاں لے رہی تھی جب ان کے جدامجد عثمان نے خواب میں اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے دیکھا تھا. چوتھا عثمانی سلطان بایزیدیلدرم اس کا محاصرہ کرچکا تھا (اس کے بیٹے) موسیٰ نے قسطنطنیہ پر سخت دبائو ڈالا تھا اور اس کے پوتے سلطان مراد دوئم (محمد الفاتح کے والد) نے بڑے صبر و ضبط کے ساتھ اس کی فتح کا پروگرام بنایا تھا. گویا دوسرے لفظوں میں اولاد عثمان کی یہ خاندانی خواہش تھی جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اس نسل کا ہرفرمانروا مکمل جدوجہد کرتا تھا.
(قسطنطنیہ کو حاصل کرنے کی غرض سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور کے بعد سے کل گیارہ حملے کیے جاچکے تھے جن میں مسلمانوں کو کامیابی نہ مل سکی تھی.)
سلطان محمد دوم سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے، اس خاندان کو ترکی پر حکومت کرتے ہوئے ایک سو ساٹھ سال کے لگ بھگ ہوچکے تھے. 1451 میں سلطان مراد دوم فوت ہوئے تو ان کی جگہ ان کے فرزند سلطان محمد دوم تخت پر بیٹھے اس وقت ان کی عمر صرف انیس سال تھی.
مگر انہوں نے جس خوبی کے ساتھ حکومت کی اس سے ان کی کم عمری یا ناتجربہ کاری کا ہلکا سا ثبوت بھی نہیں ملتا.
سلطان پڑھے لکھے اور کئی زبانیں جانتے تھے. بہترین جرنیل تھے اور ہر جگہ اپنی فوج کی کمان خود کرتے، ہر فیصلہ خود کرتے، اور اپنے کام سے ایسی لگن تھی کہ نظم و ضبط میں کسی قسم کی سستی اورخلل کو بالکل پسند نہیں کرتے تھے.
ان کے ارادوں، منصوبوں اور جنگی چالوں کی رازداری کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ایک بڑے افسر نے جنگ کے دوران پوچھ لیا کہ “سلطان اب آپ کا کیا منصوبہ ہے؟”
سلطان محمد نے جواب دیا، “اگر میری داڑھی کے ایک بال کو بھی اس کا پتہ چل جائے تو میں اسے اکھاڑ پھینکوں گا.”
قسطنطنیہ ترکی کے ساحل پر واقع ایک ایسا علاقہ تھا جس کے تین طرف سمندر جبکہ ایک طرف خشکی تھی، اس تکونے شہر کے خشکی والے حصے کی جانب یکے بعد دیگرے آنے والی تین فصیلیں تھیں جن میں سے دو چھوٹی اور ایک بڑی تھی.
بڑی فصیل میں ہر ایک سو ستر گز کے فاصلے پر حفاظتی برج بنے ہوئے تھے جن میں سے ہر بعج بذات خود ایک چھوٹا فوجی قلعہ تھا، باہر کی بڑی اور اندر والی فصیل کے درمیان ساٹھ فٹ چوڑی اور ایک سو فٹ گہری خندق تھی جس میں ہمیشہ پانی بھرا رہتا تھا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top