حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ جلدبازی سے کام نہ لے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ13فروری2017)دعا کے معنی اﷲ تعالی سے مانگنے اور اس کی بارگاہ میں اپنا دامن پھیلانے کے ہیں، دعا صرف مشكلات ٬ گرفتاری پریشانی اور بیماری سے چھٹكارا پانے كے لئے نہیں كی جاتی ہے بلكہ جو لوگ خالق حقیقی كی معرفت سے سرشار ہیں وہ اس كی بارگاہ میں ہر وقت دعا كرتے ہیں تاكہ قرب الہی حاصل ہوجائے.

قبولیتِ دعا کیلئے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی جلدبازی سے کام نہ لے، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی کسی حاجت کے لئے دعائیں مانگتا ہے، مگر جب بظاہر وہ مراد بر نہیں آتی تو مایوس ہوکر نہ صرف دعا کو چھوڑ دیتا ہے.

حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ جلدبازی سے کام نہ لے.

یوں تو اللہ تعالی ہر وقت اپنے بندوں کی دعا کو سنتا اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے لیکن کچھ خاص اوقات ایسے بھی ہیں، جن میں دعائیں بہت جلد قبول ہوجاتی ہیں، ان میں سے بعض اوقات یہ ہیں.

* جمعہ کے دن کی ایک خاص گھڑی :. ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے، ان میں افضل ترین دن جمعہ کا دن ہے، اسی دن میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن دنیا میں انہیں اتارا گیا، اور اسی دن میں انکی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن انکی وفات ہوئی، جمعہ کے دن ہی قیامت قائم ہوگی، اور جنوں و انسانوں کے علاوہ ہر ذی روح چیز قیامت کے خوف سے جمعہ کے دن صبح کے وقت کان لگا کر خاموش رہتی ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے، جس گھڑی میں کوئی بھی مسلمان نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنی کوئی بھی ضرورت مانگے تو اللہ تعالی اسکی ضرورت پوری فرما دیتا ہے).

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپؐ نے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا﴿یعنی وہ وقت بہت چھوٹا ہوتا ہے. ( (صحیح بخاری ومسلم

*فرض نماز کے بعد :. حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے. آپؐ نے فرمایا رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی (دعا).

(ترمذي صحيح)

*اذان اور اقامت کے درمیان :. حضرت انس بن مالک سے روایت ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی. لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر ہم اس وقت کیا دعا کریں؟ آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگا کرو”.

(أبوداود والترمذي)

سجدہ کی حالت میں : . * حدیث میں ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے خوب کثرت اور دِل جمعی سے دعا کیا کرو. (صحیح مسلم ) حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں ) دعاء کثرت سے کیا کرو”. ( صحیح مسلم وأبوداود وأحمد)

*تلاوت قرآن کے بعد :. حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہئے کہ اللہ سے سوال کرے اس لئے کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریں گے”. (ترمذي صحيح)

*رات کے آخری پہر میں :. رات کے آخری حصہ میں کیونکہ اس وقت بندہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے

حضرت جابرؓ سے روایت ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے”.

(صحیح مسلم)

*اذان اور بارش کے وقت :. حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں. ایک اذان کے وقت ،دوسرے بارش کے وقت “. (أبوداود)

*آب زمزم پیتے ہوئے :. حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے”.

(ابن ماجه وأحمد)

*مرغ کی بانگ کے وقت :. حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے رحمت و فضل کی دعا مانگو کیونکہ اس مرغ نے فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے خدا کی پناہ مانگو ﴿یعنی أعوذ باالله من الشيطن الرجيم پڑھو﴾کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے”.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top