میری ماں کی ایک آنکھ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ13فروری2017)میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا. میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی.

میں بہت تلملایا کہ اُس کو مجھے اس طرح شرمندہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی. اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا. اگلے روز ایک ہم جماعت نے مجھ سے کہا “اوہ . تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”. اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا. میں نے جا کر ماں سے کہا “میں تمہاری وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں. تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ؟” لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا. مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا. میں ماں کے ردِعمل کا احساس کیے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا. میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا. مجھے کسی غیرملک میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے وظیفہ مل گیا. تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا. ایک دن میری ماں ہمیں ملنے آ گئی. اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا. وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رہے. میں ماں پر چیخا ” تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جرات کیسے کی ؟” بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں. میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”. اور وہ چلی گئی .ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا. میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں. سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارہ. مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتایا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا. ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لیے دیا تھا. میں بادل نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا. لکھا تھا. “میرے پیارے بیٹے . ساری زندگی تو میرے خیالوں میں بسا رہا . مُجھے افسوس ہے کہ جب تم ملک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا . جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس مین شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا . مشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں . پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے . کیا تم جانتے ہو کہ جب تم ابھی بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی . دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی . سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی . جب جراحی کامیاب ہو گئی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top