بھڑوں کا چھتا

pic02

اسلام آباد (قدرت روزنامہ12فروری2017)ایک شخص کے مکان کی چھت میں بھڑوں کا چھتا لگا لیا تھا. ایک دن اس نے ارادہ کیا کہ یہ چھتا توڑدے لیکن اس کی بیوی نے مخالفت کی .
اس نے کہا ، یہ بات کسی طرح مناسب نہیں کہ بھڑوں کا چھتا توڑ کر انہیں بے گھر کردیا جائے .
 حکایت سعدی رحمتہ اللہ علیہ : ایک شخص کے مکان کی چھت میں بھڑوں کا چھتا لگا لیا تھا. ایک دن اس نے ارادہ کیا کہ یہ چھتا توڑدے لیکن اس کی بیوی نے مخالفت کی . اس نے کہا ، یہ بات کسی طرح مناسب نہیں کہ بھڑوں کا چھتا توڑ کر انہیں بے گھر کردیا جائے . اپنی بیوی کی یہ بات سن کر وہ شخص اپنے ارادے سے باز رہا اور اپنے کاروبار کے سلسلے میں باہر چلاگیا اب ایسا ہوا کہ رحم دل خاتون بھڑوں کے چھتے کے پاس سے گزر تو بھڑیں اسے لپٹ گئیں اور زہریلے ڈنک مار مار کر اس کاسارا بدن سجا دیا. شوہر گھر لوٹا تو اس نے بیوی کو درد سے تڑپتے ہوئے پایا وہ کبھی گلی میں جا کر شور مچاتی تھی کبھی صحن میں آ کر واویلا کرتی تھی . شوہر نے اس کی یہ حالت دیکھی تو کہا اب کیوں فریاد کرتی ہے ؟ اگر تو مخالفت نہ کرتی تو میں ان موذیوں کا صفایا کردیتا ، یادرکھ ! بروں پر رحم کرنا، اچھوں پر ظلم ہے ، عقل مندی یہ ہے کہ سانپ کو دیکھتے ہی اس کاسر کچل دیاجائے . حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حکایت میں یہ بات بتائی ہے کہ موذی کو اس سے پہلے قتل کردینا اولیٰ ہے جب وہ آزاد پہنچائے . اس کے علاوہ نیکی کرتے ہوئے بھی عقل سے کام لینا انتہائی ضروری ہے مہربانی کے باعث اگر کوئی جابر وظالم طاقتور ہوگیا تو کمزور خطرے میں پڑجائیں گے . یہ دراصل تمدن کا ایک زریں اصول ہے کہ برائی کے راستے پر چلنے والوں کی حوصلہ افزائی ہرگز ہرگز نہ کی جائے بلکہ جہاں تک ہوسکے انہیں اس کے گناہوں کی سزادی جائے .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top