نومولود کے کان میں آذان واقامت کی حکمت

اسلام آباد(قدرت روزنامہ12فروری2017)اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہیاس کی تعلیمات انتہائی مکمل اور جامع ہیں. اور زندگی کے ہرگوشہ کے لیے اس میں تعلیمات موجود ہیں.
اللہ تعالیٰ کا ہم پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہر معاملے میں پیدائش سے لیکر موت تک ہماری رہنمائی فرمائی ہے. ایک بچہ کی پیدائش سلسلے میں بھی دین کے احکامات نہایت واضح ہیں.بچے کی پیدائش کے سلسلہ میں جو اسلامی احکامات ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ بچے کے دائیں کان میں اذان دی جائے.اور یہ کام پیدائش کے فوراً بعد نومولود کو نہلانے کے بعد کرنا چاہیے بشرطیکہ کوئی جسمانی عوارض لاحق نہ ہوں .علمائے کرام نے اسب بارے میں جو حکمتیں بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں کہ اذان کے کلمات سے شیطان بھاگتا ہے. جس کی وجہ سے نومولود اس کے شر سے محفوظ ہو جاتا ہے. اس میں یہ بھی مصلحت بیان کی جاتی ہے کہ بچہ کے دنیا میں اتے ہی اس کو جو دعوت ملتی ہے وہ ہے عقیدہ توحید اور عقیدہ رسالت اور نماز کی دعوت .گویا یہ نومولود شیطانی دعوت سے پہلے رحمانی دعوت سن لیتا ہے. اذان دینے میں حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہیکہ بچہ سب سے پہلے اپنے خالق کا نام سن لیتا ہے جیسا کہ ملا علی قاری رحم اللہ علیہ فرماتے ہیں بچے کے کان میں اذان دینے کی حکمت یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ذکر کوایمان کی دعاء کی صورت میں سن لیتا ہے. علامہ ابن قیم رحم اللہ علیہ نے اپنی کتاب'' تحف المودود باحکام المولود''میں نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کو مستحب لکھا ہے. اس بارے میں متعدد احادیث ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے جس کو حضرت ابورافع نے روایت کیا ہیفرماتے ہیں'' کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے حضرت حسن کی پیدائش پر اْن کے کان میں اذان پڑھی'' . دوسری حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے: حضرت حسن بن علیؑ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے یہاں بچہ پیدا ہو تو وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان اقامت پڑھے تو وہ بچہ ام الصبیان(ایک بیماری ہے) سے محفوظ رہے گا.( بیہقی) یہ حدیث مجمع الزوائد ،کنز العمال اور الجامع الصغیر وغیرہ میں بھی موجودہے. اگرچہ کچھ محدثین حضرات نے اس کوضعیف قرار دیا ہے مگر کچھ محدثین کرام نے اس کے ضعیف ہونے کی نفی بھی کی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث کی سندمیں ضعف ہو مگر اْمت اْس حدیث پر تواتر سے عمل کرتی آرہی ہو تو اس حدیث کی سند کا ضعف اس حدیث کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں بنے گا. اوردوسری روایت جوکہ جامع ترمذی،ابو داؤد،مصنف عبدالرزاق،مسند احمد،المعجم الکبیراور بیہقی کی بسند حسن حدیث پاک ہے: عن عاصم بن عبید اللہ آخبرنی عبید اللہ بن ا?بی رافع قال را?یت ا?و قال ا?ذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ا?ذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطم حضرت عاصم بن عبید اللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے عبید اللہ بن ابی رافع نے خبر دی کہ وہ کہتے ہیں میں نے دیکھا یا کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے کان میں اذان دی جب یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے تولد ہوئے. اور مرقات المفاتیح کی روایت کے مطابق: حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچے کی پیدائش پر اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہتے تھے. اور''مسند ابویعلی موصلی'' میں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاروایت ہے کہ ا?پ نے فرمایا جب بچہ پیدا ہو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھی جائے تو بچہ ام الصبیان (آسیبی کی قسم کی ایک بیماری ) کی بیماری سے محفوظ رہے گا. نومولود کے کان میں اذان واقامت کے عمل کا ہم اگر تحقیقی نقطہ? نظر سے جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی صحیح روایتوں کے ذخیرے میں اِس عمل کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس کے استناد پر اْمت کا اجماع تو در کنار،اِس عمل کی مشروعیت پر علمی طور پر کسی ایک فقہی مذہب کے علما کے اتفاق کو ثابت کرنا بھی ناممکن ہے. مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اِس باب کی تمام روایات کو جمع کر کے اگر علم حدیث کے معیار پر پرکھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اِس باب کی کوئی ایک روایت بھی تحقیق سند کے معیار پر پورا نہیں اترتی. علمِ اسلامی کے دور اوّل کے تمام مراجع بھی اِس کے بیان اور روایت سے بالکل خاموش ہیں. چوتھی صدی تک کے ائمہ فقہا نے بھی اِس اذان واقامت پر کبھی کوئی مثبت کلام نہیں کیا. جن فقہاے متاخرین نے اِس عمل کو قبول کیا ہے تو محض بعض کمزور اور ناقابل اعتبار روایتوں کی بنیاد پر کیا ہے. کوئی دلیلِ صحیح اس باب میں کوئی صاحب علم کبھی پیش نہیں کرسکا. پھر مزید یہ کہ اِس عمل کی مشروعیت کو ماننے والے اہل علم بھی بعض پہلووں سے باہم مختلف ہیں. نومولود کے کان میں اذان کہنے کا عمل جب امام مالک کے علم میں آیا تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اِسے ایک غیر مشروع عمل قرار دیا،بلکہ اِسے ناپسند کیا. عصر حاضر کے بعض علماے محققین نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے. ہمارے نزدیک بھی اس مسئلے پر صحیح رائے عدم مشروعیت ہی کی ہے. خلاصہ بحث یہ ہے کہ نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہنے کا عمل سنت نہیں بلکہ ایک غیر مشروع عمل ہے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے مشروع کیا ہے،نہ سنت کے طور پر جاری ہی فرمایا ہے؛اور نہ آپ سے اِس کی روایت ہم تک کسی قابلِ اعتماد ذریعہ سے ہوئی ہے. ائمہ فقہا میں سے یہی رائے امام مالک کی ہے. علماے معاصرین میں بھی کئی محقیقین کا فتوی اِسی رائے پر ہے. میری تحقیق کے مطابق مسلمانوں میں اِس عمل کی پیدایش بعد کے دور میں اِس سے متعلق بعض ناقابل اعتبار روایتوں کے ظھور میں آنے کے بعد ہی ہوئی ہے. پھر اْس دور کے بعض فقہا نے جب اپنے فہم کے مطابق اْن روایتوں کو قبول کرکے نومولود کی اذان واقامت کو ایک مستحب اور مشروع عمل قرار دیا؛اْس کے بعد ہی مسلمانوں میں اِس کا شیوع ہوا ہے. اِس سے پہلے مسلمان معاشروں میں اِس عمل کا کوئی ثبوت کہیں نہیں ملتا. چنانچہ عبادت کی نوعیت کے اِس عمل کے بارے میں محقق رائے یہی ہے کہ اسے منجملہ بدعات شمار کیا جائے.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top