سنہری سکوں کا تھیلا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ11فروری2017)مسلمان بیوہ جو کہ دہلی شہر میں رہتی تھیں اس نے ایک مرتبہ مکہ جانے کا فیصلہ کیا. اس نے اپنی تمام قابل قدر چیزیں اور سنہری سکے وغیرہ فرو خت کر دیے اور اس نے تمام سکوں کو اپنے تھیلے میں رکھ لیا اور اس کا منہ سخی سے کر دیا.

روانہ ہونے سے قبل وہ سٹی قاضی کے پاس گئی اور اس کو اپنا کہا کہ سکوں کا تھیلا دینے سے بند (مہر لگا دی) ’’ قاضی ! میں مکہ معظمہ حج کرنے کے لیے جا رہی ہوں. میں یہ تھیلا آپ سے لوں گی جب میں واپس آؤں گی تو بہر حال اگر میں واپس نہ آ سکی اور مر گئی تو براہ کرم میری رقم ضرورت مندوں اور غرباء میں تقسیم کر دینا. ‘‘ کئی ہفتے گزر گئے تو وہ بیوہ نظر نہ آئی . قاضی نے بھماس کے بارے میں کوئی فکر مندی کا اظہار نہ کیا. اس نے تھیلے میں سے ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیا اس نے اس سوراخ سے تھیلے کے اندر سونے کے سکے پڑے ہوئے دیکھے . قاضی اس قدر لالچی تھا کہ اس نے تھیلے میں سے تمام سونے کے سکے نکال کر اس کے اندر پتھر بھر دیے. پھر اس نے احتیاط سے سوراخ کو بند کر دیا اور اس

طرح اس کو واپس رکھ دیا. چند ہفتوں کے بعد بیوہ حج سے واپس لوٹی تو قاضی نے اس کا تھیلا واپس کر دیا. وہ اپنا تھیلا خوشی خوشی لے گئی اور قاضی کا شکریہ ادا کیا. مگر گھر جا کر جب اس نے مہر کو توڑا. تو اس کو بڑا دکھ ہوا کہ تھیلا سونے کے سکوں کی بجائے پتھروں سے پُر تھا. وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہ رکھتی ہوئی قاضی کے پاس گئی. اس نے رونا شروع کیا اور کہا کہ :. ’’ اوہ جناب ! کم از کم مجھے آدھے سونے کے سکے مجھے واپس کر دیں جو آپ نے میرے تھیلے سے نکالے ہیں. ‘‘ مگر قاضی نے بالکل انکار کر دیا تھیلے میں سونے کے سکوں کے بارے میں جب اس عور ت نے اصرار کیا تو اس نے اس کو ملامت کرنا شروع کیا اور اس کو جیل میں بند کر دینے کی دھمکیاں دینے لگا. بے یارو مددگار بیوہ عورت شہنشاہ کی عدالت میں انصاف کے لیے گئی. شہنشاہ نے قاضی کو بلایا اور اس نے تحقیق کی. تو قاضی نے عرض کیا کہ :. ’’ میں نے اس کو سر بمہر تھیلا واپس کر دیا تھا. اصلی حالت میں. جیسے کہ اس نے مجھے دیا تھا. ‘‘ اس کے بعد شہنشاہ نے بیوہ سے پوچھا کہ :. ’’ مجھے بتائیں کیا یہ سچ ہے کہ تم نے اپنا تھیلا، بمہر شہدہ اصلی حالت میں واپس لے لیا تھا. ‘‘ بیوہ عورت نے عرض کیا کہ :. ’’ ہاں بے شک عالی جاہ ! تھیلا مہر شدہ تھا مگر اس کے اندر پتھر تھے. میں ایک غریب اور بوڑھی بیوہ عورت ہوں. میں کیوں جھوٹ بولوں گی. ‘‘ ’’ شہنشاہ اب سمجھ گیا کہ اب معاملے میں کچھ گڑ بڑ ہے. ‘‘ اس نے تھیلے کو منگوایا اس نے غور سے اس کا معائنہ کیا. پھر اس نے بیوہ کو دس دن کے بعد آنے کا حکم دیا. اس دوران شہنشاہ نے ایک چالاک منصوبہ سوچا. اس نے خفیہ طور پر اپنے بستر کے کور (Couer)کا ٹکڑا کاٹا. صبح کے وقت جب نوکروں نے دیکھا بیڈ کو ر میں ٹکڑا دیکھا تو وہ بڑے حیران ہوئے. انہوں نے شہر کے مشہور رفو گر کو بلایا اور بستر کے کور کو رفو کروا دیا. رات کے وقت شہنشاہ نے دیکھا کہ بیڈ کور بڑی احتیاط سے رفو ہو چکا ہے. یہ کسی ماہر کا کام ہے. یہ اس قدر ماہرانہ طور پر ہوا تھا کہ یہ معلوم کرنا نا ممکن تھا کہ یہاں سے بسترہ کاٹا گیا تھا. شہنشاہ نے اپنے نوکر کو بلا بھیجا اور اس نے فرمایا کہ :. ’’صبح کے وقت بستر کے اندر سورخ تھا. اب وہ غائب ہو چکا ہے؟‘‘ نوکر خوف زدہ ہو گیا. اس نے شہنشاہ کو سچ بتا دیا تو شہنشاہ نے رفو گر کو بلا لیا. جب رفو گر شہنشاہ کے پاس آیا تو اس سے بادشاہ نے فرمایا کہ :. ’’ مجھے بتاؤ کہ کیا تم نے چھوٹے بیگ کو بھی چند دن پہلے رفو کیا تھا ؟‘‘ رفو گر نے جواب میں عرض کیا کہ :. ’’ ہاں عالی جاہ ! قاضی میرے پاس آیا تھا زر کا تھیلا رفو کرانے کے ل یے اور تھیلا چھوٹے پتھروں سے بھرا ہوا تھا. اور اس کے اندر سوراخ تھا. ‘‘ شہنشاہ نے فوری طور پر بیوہ کو طلب فرمایا اور قاضی کو بھی . قاضی رفو ر کو دیکھ کر خوفزدہ ہوا. اس نے اقبال جرم کر لیا اور تمام سونے کے سکے بیوہ کو واپس کر دیے. شہنشاہ نے قاضی کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا اور اس کو دس کوڑوں کی سزا کا حکم صادر فرمایا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top