دیے تلے اندھیرا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ11فروری2017)ایک دفعہ شہنشاہ اور بیربل محل کی بالکونی میں بیٹھے تھے اور سورج کے طلوع ہونے کا نظارہ کر رہے تھے. سورج کی شعائیں دریائے جمنا کے چمکتے پانی پر پڑتی ہوئی اسے سنہری بنا دیتی تھیں.

شہنشاہ ہرروز یہ قدرتی منظر کا نظارہ کرتا تھا. آج بیر بل بھی شہنشاہ کے ساتھ یہ نظارہ کر رہا تھا. اچانک ان کی توجہ بلند آواز ی سے تبدیل ہو گئی. انہوں نے دیکھا کہ چند چور چند مسافروں کو لوٹنے کے لیے بھاگ رہے ہیں اور غریب مسافر اس غم کی وجہ سے چیخ رہے تھے. ’’ شہنشاہ نے اپنے محافظ کو چوروں کو پکڑنے کا حکم دیا مگر چور پہلے ہی غائب ہو گئے تھے تو محافظ خالی ہاتھ واپس لوٹا. شہنشاہ سپاہی کو خالی ہاتھ واپس آتے دیکھ کر بڑا غضبناک ہوا. اس سے کیا زیادہ برائی ہو سکتی ہے کہ شاہی محافظ چوروں کو نہیں پکڑ سکا جنہوں نے محل کے قریب ہی راہ گیروں کو لوٹ لیا ؟‘‘ شہنشاہ خوفناک انداز میں برس رہا تھا تو اس نے بیر بل سے پوچھا کہ :.

’’ بیر بل ! یہ سب جو کچھ واقع ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام بہتر نہیں ہے. ‘‘ کیا یہ باعث شرم نہیں ہے ؟ ایک عادم آدمی شہنشاہ کے سامنے لوٹا جا رہا ہے اور شہنشاہ اس کے لیے کرنے سے قاصر ہے ایسا کیوں ہے ؟ بیر بل نے کہا کہ :. عالی جاہ ! اگرچہ لیمپ کی روشنی اور پھیلتی ہے مگر لیمپ کے نیچے اندھیرا ہی ہوتا ہے. شہنشاہ بیر بل کے جواب سے بہت خوش ہوا. اس نے مسافروں کی کچھ رقم اور کپڑے دے کر تلافی کی. اس نے ان کی حفاظت کے لیے محافظ بھی روانہ کیے تاکہ حفاظت کے ساتھ ان کو گھر تک پہنچا کر آئیں.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top