پاکستان میں دھوکہ دہی اور بد عنوانی اپنے عروج پر ہے جس کاجو جی چاہیے عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔

(قدرت روزنامہ10-جنوری-2017)پاکستان میں دھوکہ دہی اور بد عنوانی اپنے عروج پر ہے جس کاجو جی چاہیے عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا.پیٹرول پمپس میں آپ جائیں اور لٹیں نہ ایسا سوچنا بھی دشوار ہوگیا ہے موٹر سائیکل سے لے کر بڑی کار تک ، رکشے سے لے کر ٹرک تک سب کے سب پیٹرول پمپس کے ستائے ہوئے ہیں ان چمکتے دمکتے پیٹرول پمپس پر چوری کا دھندا عروج پر ہے پیٹرول ڈلوانے والے ہوں یا پھر ڈیزل کے خریدار سب کے سب یہاں لٹتے ہیں پیٹرول پمپ مالکان کی بے رحم چھری ہر ایک کے گلے پر چلتی ہے اور اس کالے دھندے میں ان کے شریک جرم سرکاری افسران تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ مختلف آئل کمپنیز کے ملازمین بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں.

پیٹرول پمپس مالکان کی جعلسازیوں کے بے شمار طریقے ہیں .دولت کی ہوس کے ان پچاری پیٹرول پمپس مالکان نے اپنے یونٹس میں ہیر پھیر کا ایسا بندوبست کررکھا ہے کہ عام خریدار اس کو سمجھ ہی نہیں پاتا . پیٹرول پمپس مالکان کی ایک چوری پیٹرول یونٹس کی اسمبلی کے ذریعے کی جاتی ہے جہاں پیٹرول یونٹ کی فی لیٹر قیمت میں ایک سے پانچ عشاریہ سی سی کا ہیر پھیر کیا جاتا ہے جس سے فی لیٹر ایک سے ڈیڑھ روپے کی بچت ہوتی ہے اس چوری میں میٹراس طریقے سے ریورس ہوتا ہے کہ ہر 100 لیٹرپرپیٹرول پمپ مالک کو 3 لیٹر کی اضافی پیسے مل جاتے ہیں یعنی اگر کسی پیٹرول پمپ کے ایک یونٹ کی دونوں نوزل سے دو ہزار لیٹر یومیہ سیل ہو ئی تو اسے 60لیٹر یعنی 4450 روپے بآسانی بچت ہوتی ہے اور عموما ایک پیٹرول پر چار یونٹس لگے ہوتے ہیں جس کا مقصد آٹھ نیوزل سے پیٹرول پمپ مالکان کو اس چوری سے بآسانی 35520 روپے کی بچت ہوتی ہے اسے ماہانہ کے حساب سے دیکھا جائے تو 10 لاکھ 65 ہزار 600 روپے بآسانی چوری کی مد میں بچ جاتے ہیں. ان پیٹرول پمپس پر چوری کے لیے سائبر طریقوں کا استعمال بھی ہوتا ہے کمپیوٹرائزڈ چوری میں سافٹ ویئر کے ذریعے یونٹ کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر کردیا جاتا ہے جس کے بعد سو روپے لیٹر پر اسکرین سو روپے ہی ظاہر کرے گی لیکن صارف کی گاڑی میں پیٹرول 90 روپے تک کا ڈلے گا .ہوس کے پچاری پیٹرول پمپ مالک ملاوٹ والا تیل بھی بڑی بہادری سے فروخت کرتے ہیں جس سے انہیں فی لیٹر 15 سے 16 روپے تک کی بچت بآسانی ہوجاتی ہے جبکہ خریدار کی گاڑی کا دنوں میں ستیاناس ہوجاتا ہے .چور پیٹرول پمپ مالکان کے ملازم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں وہ پیٹرول ڈلوانے آنے والے صارفین شہریوں کو مختلف طریقوں سے لوٹتے ہیں عموما صارف جب پیٹرول ڈلوانے کے لیے آتا ہے تو ایک ہیلپر اسے باتوں میں لگانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ دوسرا پیٹرول پمپ ملازم اس دوران میٹر میں ہیر پھیر کرتا ہے اور پیٹرول کی مقدار رقم کے مقابلے میں کم ڈالتا ہے .عموما پیٹرول پمپ ملازمین چھوٹی رقم کا پیٹرو ل ڈلوانے والے صارف کی گاڑی کو فیول دینے کے بعد میٹر کو آٹو میٹک طریقے سے زیرو نہیں کرتے بلکہ اگلے خریدار کو مینول طریقے سے پیٹرول کی فلنگ شروع کردیتے ہیں اور اس چیٹنگ کے لیے بھی دو افراد مامور ہوتے ہیں ایک ملازم پیٹرول ڈلوانے والے کو باتوں میں لگاتا ہے اور دوسرا جلدی سے بغیرزیرو ہوئے میٹر سے اگلی کاونٹنگ شروع کروادیتا ہے مثال کے طور پر کسی نے دو سو روپے کا پیٹرول ڈلوانا ہے تو اسے پچھلے صارف کے تیس روپے سے بغیر زیرو کیے میٹر پیٹرول کی فراہمی کی جاتی ہے جس سے 200 روپے دینے کے باوجود اس شہریوں کی گاڑی میں پیٹرول 200 روپے کا نہیں ڈالا جاتا. حیرانگی کی بات یہ ہے کہ تمام آئل کمپنیوں نے عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے افسران بھی تعینات کررکھے ہیں جبکہ ان چوریوں کی پے درپے وارداتوں اور ان کی رپورٹس کے بعد خصوصی موبائل وینز بھی تیار کررکھی ہیں جو اچانک چھاپے مار کر پیٹرول پمپ سے فراہم کرنےو الے ایندھن کی معیار اور مقدار چیک کرتی ہیں جس کے بعد انہیں کلین چٹ کا سرٹیفکیٹ دینا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ان افسران کو بھی رشوت کے روپوں کی چمک نے اندھا کررکھا ہے . ہمیشہ پٹرول ڈلوانے سے قبل میٹر چیک کر لیں کہ وہ زیرو پر ہے یا نہیں.موٹرسائیکلز والے حضرات پٹرول ڈالنے والے کو یہ بات پہلے ہی بتا دیں کہ وہ پٹرول ڈالتے وقت نوزل کو اتنا اوپر رکھے کہ وہ ٹنکی  سے اوپر ہو اور اس میں سے پٹرول ٹنکی میں گرتا ہوا نظر آئے.ہمیشہ سو، دو سو تین سو اس طرح کے راونڈ فگرز میں پٹرول ڈلوانے کے بجائے ایک سو تیس،دوسو ستر ، ساٹھ روپے اس طرح کی مقدار کا فیول ڈالوائیں.کوشش کریں کہ فیول ڈالنے کے بعد میٹر پر اس کی مقدار اور قیمت ضرور دیکھ لیں.بڑی گاڑیوں والے حضرات کو اپنی گاڑی کی ایوریج کا علم ہونا چاہیے. اگر کسی پٹرول پمپ کے متعلق آپ کاشبہ ہے کہ وہ پوری مقدار فراہم نہیں کر رہا تو ایندھن ڈالوانے کے بعد میٹر پر گاڑی کی رننگ چیک کر لیں. اگر اگلی دفعہ کسی دوسری جگہ سے پٹرول ڈالوائیں اور گاڑی کی رننگ کا موازنہ پچھلی دفعہ کی مقدار سے کریں. اگر آپ کو کمی بیشی محسوس ہو تو فورا متعلقہ فلنگ اسٹیشن پر اس چوری کی شکایت کریں.جو افراد پٹرول پمپس پر موجود افسران کو شکایات کر کے تنگ آ چکے ہیں اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی. ان کو چاہیے کہ انٹرنیٹ پر تمام پٹرول فراہم کرنے والی کمپنیوں نے شکایت کے لیے ہیڈ آفس کے ای میل ایڈریس اور فون نمبر دیئے ہوتے ہیں. ان پر ان پمپس کی شکایت ریکارڈ کروائیں.جب عوام کی جانب سے بار بار شکایات کی جائیں گی تو مجبورا تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو عملے کا قبلہ درست کرنا پڑے گا:...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top