حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی

(قدرت روزنامہ09-جنوری-2016)حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی. وہ اپنے خدا کے ساتھ محو گفتگو تھا.

وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہو تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیری خدمت کروں، تجھے کھانے پینے کیلئے کچھ پیش کروں، اگر تو بیمار ہو تو تیری تیمار داری کروں، اگر مجھے تیری رہائش کا علم ہو تو میں صبح شام تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان لاﺅں. میں اپنی تمام بکریاں تیری ذات سے قربن کروں. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چرواہے سے دریافت کیا کہ تم کس سے باتیں کر رہے ہو . اس نے جواب دیا کہ میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوں جس نے ہمیں پیدا کیا اور زمین اور آسمان تخلیق فرمائے. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شرک بک رہے ہو. اپنا منہ بند رکھو. تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ شنہشاہوں کا شنہشاہ ہے. وہ ایسی خدمت سے بے نیاز ہے. چاوایا یہ سن کر از حد نا دم ہوا. اس نے اپنے کپڑے پھاڑے اور جنگل کی جانب بھا گ نکلا. اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور شکوہ کیا کہ تم نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کر دیا ہے. تجھے دنیا میں اس لئے بھیجا گیا تھا کہ تم ہمارے بندوں کو ہمارے ساتھ ملاﺅ لیکن تم نے ہمارے بندوں کو ہم سے جدا کرنے کا وطیرہ اپنا لیا ہے. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی محسوس کی تب وہ اس چراوہے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے. حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر چرواہے سے کہا کہ تمہیں اجازت ہے تم جس طرح چاہو اللہ سے مخاطب ہو اور جس طرح چاہو اسی طرح اسے یاد کرو...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top