والدین کی غیرضروری سختی سے بچے جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں،برطانوی ماہرین نفسیات

اسلام آباد(قدرت روزنامہ09جنوری2017) برطانوی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین کی غیرضروری سختی سے بچے جھوٹ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں. مڈل سیکس یونیورسٹی سے وابستہ نفسیاتی معالجین کے مطابق گھر کا ماحول بہت زیادہ جبر اور سختی پر مبنی ہوتو وہاں ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں بچہ سچ بولنے کو غنیمت نہیں جانتا اور یوں کسی ماہر فنکار کی طرح غلط بیانی سے کام لینا شرع کو دیتا ہے.

معالجین کا کہنا ہے کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے عین اسی طرح بچوں کی دروغ گوئی (جھوٹ) بولنے میں والدین کا برابر کا ہاتھ ہوتا ہے کیونکہ والدین کی جانب سے بے جا سختی انہیں اس جانب دھکیلتی ہے کہ وہ جھوٹ بولیں. ماہرین نے اس تجربے کے لئے مغربی افریقہ کے دو اسکولوں میں تجربات کئے جن میں ایک اسکول کا ماحول نرم اور دوسرے کا قدرے سخت تھا. اس میں بچوں کو کھلونے پھینک کر شور مچانے کے لئے کہا گیا جب کہ بڑے خفیہ جگہ سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے. معلوم ہوا کہ جس اسکول کا ماحول قدرے نرم تھا وہاں کے بچوں نے شور مچانے کا اعتراف کیا جب کہ جہاں سخت ماحول دیکھا گیا اور بچوں کو سزا کا ڈرتھا وہاں فوری طور پر بچوں نے بڑی مہارت سے جھوٹ بولا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top